سکھ رہنماؤں کا قتل اور بھارتی حکومت کی عالمی دہشتگردی

سکھ رہنماؤں کا قتل اور بھارتی حکومت کی عالمی دہشتگردی
کیپشن: سکھ رہنماؤں کا قتل اور بھارتی حکومت کی عالمی دہشتگردی

ویب ڈیسک: مودی سرکار کی دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت ایک کھلی حقیقت ہے۔ سکھ آزادی  پسند تحریک کے رہنما ہردیپ سنگھ نجار کا قتل مودی سرکار کی اس  شہرت کو مزید آشکار کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حال ہی میں الجزیرہ  انگلش نے ڈاکیومینٹری ریلیز کی۔  ڈاکیومینٹری میں بھارت کے سکھ نسل کشی اور سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں ناقابل تردید شواہد پیش کیے گئے۔ 

ڈاکیومینٹری میں دکھایا گیا کہ ہردیپ سنگھ نجار کے قتل نے عالمی سطح پر ہلچل مچائی اور بھارتی، امریکی اور کینیڈین حکومتوں کے تعلقات پر گہرے اثرات چھوڑے۔ ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ، خفیہ ایجنسی را کے ا فسران اور سربراہ سامنت گوئل شامل ہیں۔

الجزیرہ ڈاکیومنیٹری میں کہا گیا ہے کہ ہردیپ سنگھ نجار سکھ آزادی  پسند تحریک  کے ایک سرگرم کارکن تھے۔1977 کو بھارتی پنجاب میں پیدا ہونے والے ہردیپ سنگھ نجار ایسے ماحول میں پلے بڑھے جہاں ایک آزاد سکھ ریاست کے بارے میں گفتگو ہوتی۔"خالصتان" کا مطالبہ 1930 کی دہائی میں ہی شروع ہو گیا تھا۔"خالصتان تحریک " نے 1984 میں زور پکڑا جب بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے  سکھوں کے مقدس ترین عبادت گاہ "گولڈن ٹیمپل" پر حملہ کروایا۔"گولڈن ٹیمپل" پر اس وحشیانہ حملے کو "آپریشن بلیو سٹار" کا نام دیا گیا،۔

الجزیرہ ڈاکیومینٹری میں بتایا گیا ہے کہ سکھ کمیونٹی کے مطابق آپریشن بلیو اسٹار کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔1997 میں بھارت میں سکھوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت کے دوران ہردیپ سنگھ کینیڈا منتقل ہوئے اور وہاں آزادی کی جدوجہد جاری رکھی۔2007 میں ہردیپ سنگھ نجار نے، گر پتونت سنگھ پنوں کے ساتھ " سکھ فار جسٹس" کے نام سے ایک جماعت تشکیل دی۔2013 میں ہر دیپ نے اقوام متحدہ سے 1984 کے سکھ قتل عام کو نسل کشی تسلیم کرنے کی درخواست کی۔مگر ہندوستانی حکومت نے اس قتلِ عام کو فسادات کا نام دے دیا۔اس ناکامی کے بعد ہر دیپ سنگھ نے باقاعدہ خالصتان ریفرنڈم کی تحریک کا آغاز کیا، جس سے اسکو سکھ کمیونیٹی میں مزید پزیرائی حاصل ہوئی۔

الجزیرہ ڈاکیومینٹری کے مطابق 2014 میں مودی سرکار نے ہردیپ سنگھ کو دہشتگرد تنظیم "خالصتان ٹائیگر فورس" کا رہنما قرار دیتے ہوئےگرفتاری کےوارنٹ جاری کیئے۔بعد ازاں جون 2023 میں مودی سرکار نے ہردیپ سنگھ کو کینیڈا میں قتل کروایا۔کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ خطاب میں بھارت کو ہردیپ سنگھ کے قتل کا ذمے دار ٹھہرایا۔مئی 2024 میں بھارت میں منظم جرائم کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے تین بھارتی شہریوں کو ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔کینیڈین وزیراعظم کے بیان کے بعد اکتوبر 2024 میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو بھی ملک بدر کر دیا۔اس سے قبل بھی انڈیا اور کینیڈا کے تعلقات میں اُتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں لیکن معاملات کبھی سفارتکاروں کی بے دخلی تک نہیں پہنچے۔ مودی حکومت کی مجرمانہ سرگرمیوں اور سکھوں کے خلاف نسل کشی کی کوششوں کے اثرات امریکہ میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں امریکہ میں خالصتان تحریک کے رہنما گروپتنت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کا پردہ فاش ہوا۔ستمبر 2024 میں نیویارک کی ایک عدالت نے سکھ رہنما کے قتل کی سازش کے مقدمے میں بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور انٹیلی جینس ایجنسی را کے حکام کو طلب کیا تھا۔امریکی حکام کے مطابق، بھارت میں دو افراد، نِکِل گپتا اور "سی سی ون"، بھارتی انٹیلی جنس کے ساتھ کام کر رہے تھے۔امریکی حکام نے چیک ری پبلک سے نکھل گپتا کو گرفتار کرنے کی درخواست کی تھی جسکو جون 2024 میں امریکہ منتقل کیا گیا۔ 

اپریل 2024 کی ایک بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق:"گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل میں بھارتی خفیہ ادارے را کے افسر وکرم یادو اور ایجنسی کے سربراہ سامنت گوئل بھی ملوث تھے"۔

گرپتونت سنگھ پنوں نے الجزیرہ کو بیان دیتے ہوئے کہا"مجھے موت کا خوف نہیں ہے، مسئلہ سکھ کمیونٹی کو بھارتی قبضے سے درپیش خطرے کا ہے"۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقات اور گرفتاریوں کے باوجود، ہردیپ کے قتل کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔ 

یہ صورتحال سکھ ڈائیسپورا کی نازک پوزیشن کو اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر کینیڈا میں، جہاں مودی سرکار خالصتان حامی گروپوں کے جان کے درپے ہے۔

Watch Live Public News