بھارت میں ’’مہا کمبھ میلہ ’’ 60 لاکھ یاتریوں کا مقدس اشنان

maha kumbh mela 2025
کیپشن: maha kumbh mela 2025
سورس: google

ویب ڈیسک : بھارت کے شہرپریاگ راج ( الہ آباد) میں ہندو مذہب کا سب سےبڑا میلہ مہا کمبھ ،60 لاکھ یاتریوں نے مقدس اشنان کرلیا، 45 روزہ میلے میں دنیا بھر سے 15 ملین یاتری شرکت کریں گے۔  

  پریاگ راج ( الہ آباد)  میں گنگا جمنا اورسرسوتی دریاؤں کے  سنگم پر منعقد ہونے والا  ہندوؤں کا دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع مہا کمبھ آج پوش پورنیما کے موقع پر  شروع ہوا۔

مہا کمبھ میں کتنے اشنان؟

 پہلے بڑے اشنان یعنی غسل کی رسم کے  میں تقریبا 60 لاکھ یاتریوں نے شرکت کی ۔ دوسرا اشنان کل ہوگا۔ مہا کمبھ ہر 12 سال بعد منعقد کیا جاتاہے۔ 

کل صبح مکر سنکرانتی کی رسم ادا ہوگی جبکہ 29 جنوری کو موانی اماوسیا(29 جنوری یا مونی اماوسیا ہے۔ اماوس قمری مہینہ کا اخیر دن ہوتا ہے جس میں چاند نظر نہیں آتا۔) جبکہ 3 فروری کو بسنت پچھمی کی رسوم ادا کی جائیں گی میلے کا اختتام 26 فروری کو شاہی اشنان کی ادائیگی کے ساتھ ہوگا۔

ایک اندازے کے مطابق، مہا کمبھ کے باضابطہ آغاز سے دو دن پہلے 11 جنوری 2025 کو ریکارڈ 25 لاکھ لوگوں نے سنگم میں مقدس ڈبکی لی۔

پریاگ میں پچھلا میلہ 'اردھ‘ یا آدھا کمبھ میلہ،2019 میں منعقد ہوا تھا جس میں حکومت کے مطابق 240 ملین یاتریوں نے شرکت کی تھی۔

سخت حفاظتی اقدامات

مہا کمبھ میلہ کے علاقے میں 55 سے زیادہ پولیس اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور تقریباً 45 ہزار پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہے۔ کسی بھی قسم کی گڑبڑ کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا کی مسلسل نگرانی سے متعلق منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

 اس مہا کمبھ میں مختلف فرقوں کے سنتوں کے 13 اکھاڑے حصہ لے رہے ہیں ۔ پریاگ راج میں مختلف  دیواروں کو پینٹنگز سے سجایا گیا ہے جس میں ہندو مذہب کے مختلف پہلوؤں، دیوی دیوتاؤں اور مذہبی کتابوں میں مذکور اہم واقعات کو دکھایا گیا ہے۔

 شہر کے چوکوں کو مختلف مذہبی اشیاء جیسے کلش، شنکھ اور سوریہ نمسکار آسن کے مختلف آسن سے بھی سجایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شہر کے بیشتر بڑے چوراہوں کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے مختلف  چوراہوں پر بیریکیڈس بھی لگائے گئے ہیں، جس سے پولیس کو بھیڑ کی نقل و حرکت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ دریا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لوگوں کی آمدورفت کو آسان بنانے کے لیے سنگم کے علاقے میں 30 سے ​​زیادہ پنٹون پل بھی بنائے گئے ہیں۔

اس میلے میں ہزاروں کمیونٹی کچن بنائے گئے ہیں،جن میں سے ہر ایک میں ایک وقت میں 50 ہزار افراد کو کھانا کھلایا جا سکتا ہے جب کہ تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار بیت الخلا بھی بنائے گئے ہیں۔

واٹر پولیس اور ہیلی کاپٹر رائڈ

یاتریوں کی حفاظت کے لئے دریا میں واٹر پولیس کے دستے لانچ اور چھوٹی موٹر بوٹس میں گشت کررہے ہیں۔

اسی طرح یاتریوں کو ہیلی کاپٹر کی سواری کے مزے لینے کے مواقع بھی فراہم کئے گئے ہیں فی کس 1296 بھارتی روپے دے کر 8 منٹ کی  ہیلی کاپیررائڈ  لی جاسکتی ہے

کمبھ میلہ کیا ہے ؟

’’کمبھ  ’’کا لفظی مطلب’’ گھڑا ، کلس یا صراحی’’ ہے ۔۔ ہندومذہب کی اساطیری داستان کے مطابق دیوتاؤں نے ایک دفعہ ’’امرت’’ یعنی’’ آب حیات’’ کی تلاش میں دودھ کے سمندر کا سفر کیا، آب حیات پینے سے ابدی زندگی حاصل ہوجاتی ہے۔

’’ آب حیات’’ کی تلاش میں دیوتاؤں اور راکھشسوں نے د ودھ  کے سمندر کو متھ ڈالا لیکن جب’’ امرت کا مٹکا ، کلش یا صراحی’’ دریافت ہوئی تو راکھشس اس  کو لے کر فرار ہوگئے، اور ہندوؤں کے مقدس دیوتاؤں اور راکھشسوں کے درمیان امرت کے مٹکے کے حصول کے لئے جنگ چھڑ گئی ۔

اس کھینچا تانی کے دوران زمین پر بھی چار مقامات پر’’کمبھ یعنی صراحی یا مٹکے ’’ے چند قطرے امرت کے گرے ۔ جن چار مقامات پر امرت کے یہ قطرے ٹپکے ان میں سے ایک مقام یہ گنگا جمنا اور سرسوتی کا سنگم الہ آباد یا پریاگ راج میں واقع ہے۔

دوسرا مقام ہری دوار میں دریائے گنگا ہے اور تیسرا مقام اجین میں دریائے شپرا ہے اور چو تھا اور آخری مقام ناسک میں دریائے گوداوری ہے۔

ہندو مذہب کے عقیدے کے مطابق اس لاثانی امرت یا آب حیات کے قطروں سے بھی  ان چار مقامات کو الوہی تقدس حاصل ہوگیا اور اس سے کمبھ یعنی مٹکے یا صراحی کے میلے کی روایت کا جنم ہوا۔

اساطیری داستان کے مطابق امرت سے لبریز کمبھ کو حاصل کرنے کی لڑائی 12 دن تک جاری رہی اور چونکہ دیوتاؤں کا ایک دن زمین کے ایک  سال کے برابر ہے  اس لئے ہر 12 سال بعد ’’ مہا کمبھ’’ کا میلہ برپا کیا جاتا ہے۔

بھارت میں واقع ان چار مقدس مقامات پر جہاں امرت کے قطرے ٹپکے تھے  ہر چار برس بعد کمبھ میلہ کا انعقاد ہوتا ہے تاہم بارہ برس کے بعد مہا کمبھ کا میلہ پریاگ راج یا الہ آباد میں ہی منقعد کیا جاتا ہے جسے سب سے مقدس سمجھا جاتا ہے۔

ہندو عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ مہا کمبھ کے موقع پر گنگا جمنا سرسوتی کے سنگم کے مقام پر ڈبکی لگانے یا اشنان سے ان کے تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں اور وہ آواگون یعنی پیدائش اور موت کے چکر سے بھی آزاد ہوکر ابدی زندگی پا لیتے ہیں۔

 میلے کا آغا نانگا سادھوؤں کے ڈبکی لگانے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ نانگا سادھو ننگے رہتے ہیں اور اپنے جسم پر راکھ یا بھبوت  لگا کر رکھتے ہیں۔

بہت سے عقیدت مند گنگا میں ڈبکی لگانے کے بعد سادگی سے زندگی گزارنے کا عہد کرتے ہیں، وہ تجرد کی زندگی بسر کرتے ہیں اور پوجا اور مراقبے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

آوا گون یا عقیدہ تناسخ

ہندو مذہب کے مطابق انسان کو جب تک مکتی یا موہ نہ ملے وہ دنیا میں باربار کسی نہ کسی انسان یا جانور کی شکل میں جنم لیتا رہتاہے۔ اس لئے زندگی یا موت سے مکتی بہت اہم سمجھی جاتی ہے

Watch Live Public News