ویب ڈیسک: نریندر مودی کے دورِ حکومت میں بھارت کی ہوابازی کی صنعت شدید زوال اور بدانتظامی کا شکار نظر آتی ہے، جہاں دعوؤں کے برعکس نہ تو کوئی مؤثر سیفٹی نگرانی کا نظام قائم کیا جا سکا اور نہ ہی ایوی ایشن سیکٹر کو عالمی معیار تک پہنچایا جا سکا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایئر انڈیا کے بوئنگ 787 طیارے کے المناک حادثے میں 260 افراد جاں بحق ہوئے۔ اسے گزشتہ دہائی کا دنیا کا سب سے مہلک فضائی حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پرواز کے ٹیک آف کے فوراً بعد طیارے کے فیول کٹ آف سوئچز بند ہو گئے، جس کے نتیجے میں جہاز دونوں انجنوں سے محروم ہو گیا۔
تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ فیول کٹ آف سوئچز کا ازخود بند ہونا ممکن نہیں، اور اس پرواز میں کسی ایمرجنسی کی بھی کوئی اطلاع نہیں تھی۔
حادثے کے بعد بھارتی ایوی ایشن وزیر کا بیان بھی عوامی غصے کو کم نہ کر سکا، جس میں انہوں نے کہا کہ "پائلٹس کی فلاح کا خیال رکھا جا رہا ہے، اور حتمی رپورٹ تک کسی نتیجے پر نہ پہنچا جائے۔"
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ حادثہ ایئر انڈیا کی نئی مینجمنٹ اور ٹاٹا گروپ کے ان دعووں کے لیے بھی شدید دھچکا ہے، جس کے تحت ایئر لائن کو جدید اور محفوظ بنانے کی بات کی جا رہی تھی۔
رپورٹ نے مودی سرکار کی فضائی نااہلی، خاموشی اور کمزور پالیسیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ "میک ان انڈیا" اور "شائننگ انڈیا" جیسے نعرے صرف تشہیری مہم تک محدود رہے، جبکہ حقیقت میں بھارت کا ایوی ایشن سیکٹر عدم توجہی، بدانتظامی اور غفلت کا شکار ہو کر انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے۔
حکومتی دعووں اور زمینی حقائق میں اس واضح تضاد نے بھارتی عوام اور بین الاقوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔