ویب ڈیسک: امریکا نے ایران پر فضائی حملوں کا دائرہ کار مزید بڑھا دیا ہے، جب کہ ایرانی میڈیا کے مطابق تازہ حملوں کی لہر نے جنوبی اور مغربی ایران کے وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں میں ماضی کے مقابلے میں زیادہ مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں قشم، سرک، بندرعباس، جسک، بوشہر، خندب، مہشہر، آبادان اور خرمشہر سمیت متعدد علاقے شامل ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے حملوں میں ایک سیکیورٹی گارڈ کی ہلاکت اور چار افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کے تنازع پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے۔ دوسری جانب تہران کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والی تمام سفارتی کوششوں کو "بے معنی" بنا دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق اتوار کو رات 9 بجے (جی ایم ٹی) مزید حملے کیے گئے۔ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو مزید محدود کرنا ہے تاکہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور شہری بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنا سکے۔
سینٹکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی افواج کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ان حملوں کی منظوری دی۔ صدر ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں ہونے والی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "ہم انہیں بری طرح مار رہے ہیں۔"
اس سے قبل اتوار کو تہران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اس نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کر دی ہے۔ ان دعوؤں کے بعد گزشتہ ماہ طے پانے والے امریکا اور ایران کے عبوری جنگ بندی معاہدے کے مستقبل پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تاہم سینٹکام کا کہنا ہے کہ بعض تجارتی جہاز اب بھی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق امریکا کے تازہ حملے شدت اور دائرہ کار کے اعتبار سے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ وسیع تھے۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ صرف ہفتے کی رات تقریباً 140 حملے کیے گئے۔ ادھر صدر ٹرمپ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب ایران کے حملوں کا دائرہ قطر تک بھی پھیل گیا، جو جنگ بندی مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا اور اپریل کے بعد پہلی مرتبہ حملوں کی زد میں آیا۔ متحدہ عرب امارات نے بھی بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائل اور ڈرون تباہ کر دیے۔
سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے گزشتہ تین راتوں کے دوران ایران کے 300 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کے جواب میں اردن، کویت، عمان اور قطر میں اہداف پر حملے کیے گئے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔