وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے 34 کھرب 51 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا

وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے 34 کھرب 51 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا

(ویب ڈیسک )وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کا آئندہ مالی سال 2025-2026 کا بجٹ پیش کر دیا۔ ترقیاتی بجٹ کاحجم 10 کھرب 18 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

قائم مقام اسپیکر نوید انتھونی کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا۔  ایم کیوایم کی جانب سے اسرائیل کی ایران پر حملے کیخلاف  قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی گئی جس پر قائم مقام اسپیکر نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں قرارداد پیش نہیں کی جا سکتی۔

اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔ اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ اور شدید شور شرابا کیا اور  بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ  بجٹ پیش کرنا میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے، سندھ کے عوام کی نمائندگی کرنے پر بھی فخر ہے، ذوالفقار بھٹو، بینظیر بھٹو کے وژن سے قوت حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ  پیپلز پارٹی کو 2024 کے انتخابات میں واضح مینڈیٹ ملا، حالیہ دنوں میں ہمارا وطن ایک امتحان سے گزر رہا تھا، مسلح افواج نے بہادری سے دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کیا۔ بہادر محافظوں کو سندھ کے عوام سلام پیش کرتے ہیں، پاکستان کی سلامتی سیاست سے بہت بالاتر ہے، پاک بھارت جنگ میں میڈیا نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ   صحت کی سہولیات میں اضافہ، تعلیمی ماحول بہتر ہوا، نقل وحمل، نکاسی آب، آبپاشی، زراعت اور پانی کی فراہمی کو بہتر بنایا۔

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ  سندھ کے بجٹ کا حجم 3 ہزار 450 ارب روپے ہے، غیر ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 2 ہزار 150 ارب روپے ہے، ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 1,018 ارب روپے ہے، تعلیمی بجٹ میں 12 فیصد اضافہ کیا گیا ہےاور اس کے لیے 523 ارب روپے مختص کئے ہیں جبکہ   صحت کے بجٹ میں 8 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ   صحت کیلئے 326 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، مختلف شہروں میں ایک ہزار الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی، کراچی کے لئے 500 بسیں منگوائی جائیں گی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ  خصوصی بچوں کے لئے اسکولز، بحالی مراکز قائم ہوں گے، انھوں نے تجویز دی کہ خصوصی بچوں کیلئے انکلوژن سٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا، سیلاب متاثرین کے لئے 8 لاکھ نئے گھر تعمیرکئےجائیں گے۔

سرکاری ملازمین کیلئے بڑا ریلیف: 

وزیراعلیٰ سندھ نے سرکاری ملازمین کے لیے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 12 فیصد اضافے کی تجویز ہے، گریڈ 1 سے 16 تک کی تنخواہوں میں 12 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔ گریڈ 17 سے 22 تک تنخواہوں میں 10 فیصد  اضافے کی تجویز ہے۔اسی طرح   پنشن میں 8 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  امن وامان کے لیے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، حکومتی اقدامات سے جرائم میں نمایاں کمی آئی، کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں کمی ہوئی ہے، کچے کے علاقے میں کامیاب آپریشن کیے،ہائی ویز پر اے آئی کیمروں سے نگرانی کی جا رہی ہے، ٹریفک اصلاحات کے لیے کئی اقدامات متعارف کرائے۔

ان کا کہنا تھا کہ  پولیس میں 25 ہزار سے زیادہ بھرتیاں کی گئیں، شہدا پیکج میں اضافہ کیا گیا ہے، پولیس اسٹیشن کی سطح پر فنڈز فراہم کیے گئے، ایس ایچ اوز کو مالیاتی اختیارات دیے گئے۔

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی  سال میں تعلیم کے لیے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، یونیسیف کی مدد سے ہزاروں اسکولوں کی مرمت کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سال صحت پر 344 ارب روپے خرچ کیے گئے، این آئی سی وی ڈی میں پورے پاکستان سے زیادہ مرضوں کا علاج کیا گیا، ایس آئی سی وی ڈی کے پاس اسپتالوں کا وسیع نیٹ ورک ہے، گمبٹ انسٹی ٹیوٹ میں اس سال 308 لیور ٹرانسپلانٹ ہوئے، ایس آئی سی ایچ میں بچوں کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کیں، یہ بچوں کی صحت کا دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔

Watch Live Public News