ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مبینہ معاہدے کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے کے بعد ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا میں زیرِ گردش شرائط حقیقت پر مبنی نہیں اور ان کا مجوزہ معاہدے سے کوئی تعلق نہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹرتھ سوشل‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ شائع ہونے والی معلومات ’’ فیک نیوز‘‘ ہیں اور ان شرائط کا اس معاہدے سے کوئی تعلق نہیں جو ان کے بقول تحریری شکل میں طے پا چکا ہے۔
انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھانا اور اعتماد کی بنیاد پر بات چیت کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
ٹرمپ کے حالیہ بیان نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس سے ایک روز قبل انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک معاہدہ ’’منظور‘‘ ہو چکا ہے اور اس پر آئندہ چند روز میں دستخط کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی سے متعلق مجوزہ معاہدہ، جسے ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، ماضی کے مقابلے میں تکمیل کے زیادہ قریب ہے۔ انہوں نے میڈیا اور مبصرین سے اپیل کی کہ حتمی شرائط طے ہونے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے بعد ازاں عباس عراقچی کے اسی پیغام کو اپنے ٹرتھ سوشل اکاؤنٹ پر شیئر بھی کیا، جسے بعض حلقے مذاکراتی عمل میں رابطے کے مثبت اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔