جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی قیادت سے منسوب مبینہ آڈیو لیک، راولاکوٹ میں داخلے اور کشیدگی سے متعلق گفتگو سامنے آگئی

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی قیادت سے منسوب مبینہ آڈیو لیک، راولاکوٹ میں داخلے اور کشیدگی سے متعلق گفتگو سامنے آگئی
کیپشن: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی قیادت سے منسوب مبینہ آڈیو لیک، راولاکوٹ میں داخلے اور کشیدگی سے متعلق گفتگو سامنے آگئی

ویب ڈیسک: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) سے منسوب بعض رہنماؤں کی ایک مبینہ آڈیو گفتگو منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ آڈیو میں ٹریڈ یونین تھورار (ضلع پونچھ) کے صدر ساجد اعظم اور کمیٹی کے رکن حمید کشمیری کے درمیان گفتگو سنائی دیتی ہے، جس میں راولاکوٹ کی صورتحال، ممکنہ جلوسوں اور شہر میں داخلے سے متعلق معاملات پر بات چیت کا ذکر کیا گیا ہے۔

گفتگو کے ایک حصے میں ایک فریق کی جانب سے جلوس کی آمد سے متعلق سوال کیا جاتا ہے، جس پر مبینہ طور پر جواب دیا جاتا ہے کہ عمر نذیر کی ہدایت کے مطابق آج کے بجائے اگلے روز داخل ہونے کی بات کی گئی ہے۔

آڈیو کے بعض حصوں میں مبینہ طور پر بڑی تعداد میں افراد کی موجودگی اور ممکنہ پیش رفت یا منظم حکمت عملی کے حوالے سے گفتگو بھی سنی جا سکتی ہے۔ اسی دوران راولاکوٹ میں داخلے کے بعد مختلف مطالبات پیش کرنے سے متعلق باتیں بھی سامنے آتی ہیں۔

مزید مبینہ گفتگو میں تنظیمی معاملات، اندرونی اختلافات اور قیادت سے متعلق تحفظات کا اظہار سخت اور تنقیدی انداز میں کیا گیا ہے، جس سے صورتحال کی حساسیت کا تاثر ابھرتا ہے۔

تاہم اس آڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اور نہ ہی اس کے مکمل سیاق و سباق یا اصلیت کے حوالے سے کسی فریق کا باضابطہ مؤقف سامنے آیا ہے۔

آڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد علاقے میں سیاسی و سماجی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، جبکہ سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے بھی سوالات اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

Watch Live Public News