ویب ڈیسک: بنگلہ دیش کے ٹیسٹ کرکٹر نعیم حسن نے چٹاگانگ میں پولیس اہلکاروں پر مبینہ بدسلوکی اور تشدد کا الزام عائد کیا ہے، جس کے بعد ملک کے کرکٹ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی شب اس وقت پیش آیا جب نعیم حسن ڈھاکا ایئرپورٹ سے چٹاگانگ واپس جا رہے تھے۔ کرکٹر کے مطابق راستے میں لال خان بازار کے علاقے میں پولیس اہلکاروں نے ان کے سی این جی رکشہ کو روکا۔ نعیم حسن کا دعویٰ ہے کہ پولیس اہلکاروں نے بغیر کسی واضح وجہ کے ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا، انہیں زبردستی رکشے سے اتار کر ایک دوسرے رکشے میں منتقل کیا اور بعد ازاں مبینہ طور پر لاٹھیوں اور پلاسٹک کے پائپوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔
Bangladesh cricketer Nayeem Hasan was reportedly assaulted by the police in Chattogram on Friday night when he was headed home from the Dhaka airport https://t.co/LVNCVu8Was pic.twitter.com/NMVHCNxUiA
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) June 13, 2026
بنگلہ دیشی اسپنر کے مطابق انہوں نے متعدد بار اپنی شناخت قومی کرکٹر کے طور پر کرانے کی کوشش کی، تاہم ان کی بات نہیں سنی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ دیر بعد انہیں رہا کر دیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے گھر پہنچ گئے۔
دوسری جانب چٹاگانگ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں ضابطہ کار کی ممکنہ خلاف ورزی کے اشارے ملے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے میں ملوث اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی شفاف اور مکمل تحقیقات جاری ہیں اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
واقعے کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دونوں اداروں نے کہا ہے کہ حقائق سامنے لا کر ذمہ داروں کا تعین کیا جانا چاہیے۔
ادھر بنگلہ دیش کے سینئر کرکٹر Mushfiqur Rahim سمیت متعدد کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے واقعے کی مذمت کی اور شفاف تحقیقات پر زور دیا۔
واضح رہے کہ نعیم حسن بنگلہ دیش کے آئندہ دورۂ زمبابوے کے لیے ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ ہیں، جس کے باعث یہ واقعہ کرکٹ حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔