امریکی صدر کے وزن میں 13کلوگرام کمی؟ وجہ کیا بنی؟

امریکی صدر کے وزن میں 13کلوگرام کمی؟ وجہ کیا بنی؟
کیپشن: امریکی صدر کے وزن میں 13کلوگرام کمی؟ وجہ کیا بنی؟

ویب ڈیسک: امریکی وزیر صحت و انسانی خدمات رابرٹ کینیڈی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 13 کلو گرام وزن کم ہو گیا ہے۔ انہوں نے صدر کی جانب سے کھائے جانے والے غیر صحت بخش کھانے پر تبصرہ کیا۔

کینیڈی نے فاکس نیوز کے شان ہینٹی کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اس نے ایک دن پہلے ٹرمپ کو دیکھا اور تبصرہ کیا کہ میرے خیال میں انہوں نے 13 کلوگرام وزن کم کرلیا ہے۔ ان کا تبصرہ ایک نیوز اینکر کے یہ کہنے کے بعد آیا کہ صدر نے صحت مند بننے کے لیے اپنے کھانے کے انداز کو تبدیل کیا ہے۔

شان ہینیٹی نے کہا "وہ ( ٹرمپ) بہت اچھے لگ رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ مثال کے طور پر اگر ان کے پاس ابھی برگر ہے تو وہ اسے بن کے ساتھ نہیں کھائیں گے۔جس پررابرٹ کینیڈی نے کہا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ اصل میں اپنی خوراک بدل رہے ہیں۔

یہ انٹرویو فلوریڈا کے ایک سٹیک این شیک ریستوران میں اس وقت لیا گیا جب کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ فرنچ فرائز پکانے کے لیے بیجوں کے تیل کی بجائے بیف تیل کا استعمال کرے گا۔ اس اقدام کو کینیڈی صحت کی وجوہات کی بنا پر فروغ دے رہے ہیں۔

شو میں انہوں نے ٹرمپ کے میک ڈونلڈز، کے ایف سی، پیزا، اور کم کیلوری والے سافٹ ڈرنکس کھانے کے بارے میں بات کی۔ اس پر ہینیٹی نے کینیڈی سے پوچھا کہ کیا انہیں شوگر ڈرنکس یا کم کیلوری والے سوڈا سے مسئلہ ہے۔ کینیڈی نے کہا جی ہاں۔ ہینیٹی نے سوال کیا کہ کیا ایک بار پھر آپ اسے روکنے کے لئے تو نہیں جا رہے ہیں۔ کینیڈی نے جواب میں کہا میں اسے لوگوں سے چھیننے نہیں جا رہا ، لیکن ہمیں اس پر سبسڈی نہیں دینی چاہیے۔

وزیر صحت نے امریکیوں کی صحت کی بحالی کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جس میں سپلیمینٹل نیوٹریشن اسسٹنس جیسے پروگراموں کا جائزہ لینا شامل ہے۔ یہ پروگرام پہلے فوڈ سٹیمپ کے نام سے جانا جاتا تھا جو امریکیوں کو غیر صحت بخش خوراک خریدنے کی اجازت دیتا ہے۔ کینیڈی چاہتے ہیں کہ یہ کارڈ صرف صحت مند کھانوں پر توجہ مرکوز کریں۔

Watch Live Public News