ویب ڈیسک: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آج (پیر) کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ فنڈز کی ادائیگی متوقع ہے جبکہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کا پاکستان کی معیشت پر کوئی بڑا مالی اثر نہیں پڑے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ کشیدہ صورتحال کے باوجود کسی نئے معاشی جائزے کی ضرورت نہیں، اور آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ سے متعلق مذاکرات 14 سے 23 مئی تک جاری رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری تجارتی مسائل جلد حل ہونے کی امید ہے، جبکہ بھارت کو سندھ طاس معاہدہ از خود معطل کرنے کے اقدام کو واپس لینا ہوگا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان، بھارت کے درمیان سیزفائر کا خیر مقدم کرتا ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ "چیزیں معمول کی جانب بڑھتی نظر آ رہی ہیں، جو ایک مثبت اشارہ ہے۔"
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پیر کے روز پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بہتری دیکھی گئی اور بھارت سے کشیدگی کا مالیاتی اثر موجودہ بجٹ میں سنبھال لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں ابھی تین چار ہفتے باقی ہیں، اس لیے فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، تاہم " دفاعی ضروریات کے لیے جو کچھ بھی درکار ہوگا، وہ ضرور کیا جائے گا۔"
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں بھارت، آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کو رکوانے میں ناکام رہا، اور آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے توسیعی فنڈ سہولت کے تحت 7 ارب ڈالر کے پروگرام کی اگلی قسط جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔