ویب ڈیسک: بھارت نے بالآخر پاکستان کی جانب سے تاریخی سطح کے سائبر حملے کا اعتراف کر لیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق پاکستانی ہیکرز نے بھارت پر 15 لاکھ سے زائد سائبر حملے کیے، جن میں بجلی تنصیبات، سرکاری ادارے، ہوائی اڈے اور الیکشن کمیشن آف انڈیا شامل ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مہاراشٹرا سائبر سیل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ حملے سیزفائر کے بعد شروع ہوئے اور ان کے پیچھے سات جدید ہیکنگ گروپس (APT) سرگرم تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حملے صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ بنگلہ دیش، مشرق وسطیٰ اور انڈونیشیا سے بھی تعاون حاصل ہوا۔
حکام کے مطابق پاکستانی سائبر فورسز نے بھارتی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بری طرح متاثر کیا، جس کے نتیجے میں بھارت کے 70 فیصد بجلی گرڈ ناکارہ ہو گئے، ملک بھر میں اندھیرا چھا گیا اور بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔
اس کے علاوہ، حساس سرکاری، دفاعی اور الیکشن کمیشن کی ویب سائٹس کو بھی ہیک کر کے نہ صرف ڈیٹا ڈیلیٹ کیا گیا بلکہ لیک بھی کر دیا گیا۔ نشانہ بننے والوں میں چھترپتی شیواجی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ (ممبئی) بھی شامل ہے۔
مہاراشٹرا سائبر کے ایڈیشنل ڈی جی پی یشسوی یادو نے بتایا کہ یہ حملے انتہائی منظم اور مربوط تھے، اور بھارتی سائبر سیکیورٹی سسٹمز کو شدید چیلنج کا سامنا رہا۔
یاد رہے کہ پاکستانی سیکیورٹی ذرائع پہلے ہی بھارتی میڈیا کی جھوٹی رپورٹنگ کو بے نقاب کر چکے تھے، اور اب خود بھارت نے اعتراف کر کے اس حملے کی سنگینی اور اثرات کی تصدیق کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ خطے کی سائبر تاریخ کا سب سے بڑا سائبر اٹیک ہے، جس نے نہ صرف بھارت کے ڈیجیٹل دفاع پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ پاکستان کی سائبر صلاحیت کو بھی دنیا کے سامنے اجاگر کر دیا ہے۔