مودی کے ماضی کے سوویندو ادھیکاری پر حملے انکی مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ تقرری کے بعد دوبارہ منظرِ عام پر

مودی کے ماضی کے سوویندو ادھیکاری پر حملے انکی مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ تقرری کے بعد دوبارہ منظرِ عام پر

(ویب ڈیسک) 2016 کی ایک پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں وزیرِاعظم نریندر مودی اُس وقت کے ٹی ایم سی رہنما سوویندو ادھیکاری کا ایک مبینہ رشوت اسکینڈل پر مذاق اڑا رہے ہیں، جہاں وہ کیمرے پر رقم لیتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔

2026 میں مودی نے اسی سوویندو ادھیکاری کو مغربی بنگال کا پہلا بی جے پی وزیراعلیٰ مقرر کر دیا۔ مودی نے عالمی جمہوری تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کر دی کہ ایک ایسے شخص کو وزیراعلیٰ بنایا گیا جو مبینہ رشوت اسکینڈل میں کیمرے پر پکڑا گیا تھا۔

 دس سال پہلے جس سوویندو ادھیکاری کو مودی نے رشوت ویڈیو پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا، آج اسی کی حلف برداری تقریب میں بطور مہمان شریک ہوئے۔ ادھیکاری کو 2020 میں ٹی ایم سی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے تک کرپشن الزامات کا سامنا رہا، جس کے بعد ان کے گرد بیانیہ یکسر تبدیل ہو گیا۔

بی جے پی کی وہ پرانی ویڈیو جس میں ادھیکاری پر رشوت الزامات کو نمایاں کیا گیا تھا، مبینہ طور پر سرکاری پلیٹ فارمز سے ہٹا دی گئی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین بی جے پی کو ایک سیاسی “واشنگ مشین” قرار دے رہے ہیں جہاں پارٹی میں شمولیت کے بعد کرپشن الزامات غائب ہو جاتے ہیں۔ بھارتی سیاست میں بی جے پی کی “واشنگ مشین” شاید وائی فائی سے بھی زیادہ تیزی سے کام کرتی ہے۔

Watch Live Public News