ویب ڈیسک: یوتاہ کے 18 سالہ ٹائلر رابنسن کا مستقبل کبھی روشن دکھائی دیتا تھا۔ انہوں نے کالج انٹری امتحان میں اعلیٰ نمبر حاصل کیے اور یوتاہ اسٹیٹ یونیورسٹی، لوگن میں چار سالہ اسکالرشپ حاصل کی، ان کی والدہ نے فیس بک پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ان کا بیٹا یونیورسٹی کی جانب سے موصول سکالرشپ لیٹر بلند آواز میں پڑھ رہا ہے۔
ایک اور پوسٹ میں انہوں نے فخر سے لکھا: "وہ اپنی نئی زندگی شروع کرنے کے لیے بے حد پرجوش ہے، یہ اس کے لیے شاندار ثابت ہوگا۔" لیکن 4 سال بعد حالات یکسر بدل گئے۔
حکام کے مطابق، رواں ہفتے منگل کو رابنسن نے ایک یونیورسٹی کیمپس کی چھت سے فائرنگ کی جس سے چارلی کرک ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے نے ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی تشدد کی نئی لہر کے خدشات کو جنم دیا۔
تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حکام اس بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر رابنسن کس وجہ سے اس مقام پر پہنچا۔ تاحال اس واقعے کا کوئی حتمی محرک سامنے نہیں آیا، تاہم جمعے کو اس کی گرفتاری کے اعلان کے وقت کچھ اشارے ضرور دیے گئے۔
یوتاہ کے گورنر اسپینسر کاکس کا کہنا تھا کہ پولیس نے رابنسن کے ایک فیملی ممبر سے گفتگو کی جس نے بتایا کہ کہ رابنسن نے حال ہی میں کرک کی یوتاہ ویلی یونیورسٹی میں شیڈول تقریب کا ذکر کیا تھا،جہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
مزید یہ کہ ملزم گزشتہ برسوں میں زیادہ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہوچکا تھا، ملزم نے مبینہ طور پر کارتوسوں پر اینٹی فاشسٹ نعرے بھی کندہ کر رکھے تھے۔
ریاستی ریکارڈ کے مطابق اس کا پہلے کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں۔ وہ بطور ووٹر رجسٹرڈ تھا مگر کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں تھا۔ اب 22 سالہ رابنسن کو "ایگریویٹڈ مرڈر" سمیت دیگر الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔
واقعے کے وقت رابنسن اپنے واشنگٹن ( یوتاہ) میں واقع اپنے والدین کے گھر میں رہ رہا تھا، ایک پڑوسی نے بتایا کہ وہ رابنسن کا خاندان سلجھا ہوا اور پڑھا لکھا ہے، مگر وہ ٹائلر رابنسن کو زیادہ نہیں جانتے تھے۔
رابنسن کی والدہ نے ایک فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ’ رابنسن نے ہائی اسکول میں ACT کالج کے داخلے کے امتحان میں 34 کا اسکور حاصل کیا تھا، ٹیسٹ دینے والوں میں اُس کی نمایاں پوزیشن تھی
اس کے والدین کی فیس بک پوسٹس کے مطابق اس کے دو چھوٹے بھائی ہیں۔ ریاستی ریکارڈ کے مطابق، اس کی والدہ نے ایک ہیلتھ کیئر کمپنی میں سماجی کارکن کے طور پر ملازمت کرتی ہے جبکہ رابنسن کےوالد پتھروں سے کچن کاؤنٹرز تیار کرنے والی کمپنی کے سربراہ ہیں۔