الجزائرکا12فرانسیسی اہلکاروں کو48گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم

الجزائرکا12فرانسیسی اہلکاروں کو48گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم
کیپشن: الجزائرکا12فرانسیسی اہلکاروں کو48گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم

ویب ڈیسک: الجزائر کی حکومت نے فرانس کے 12 اہلکاروں کو اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں ملک چھوڑ کر چلے جانے کا حکم دے دیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق فرانسیسی وزیر خارجہ نے پیر کے روز الجزائرکی جانب سے 12 فرانسیسی اہلکاروں کو ملک بدر کرنے کی خبر کی تصدیق کی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ الجزائرکی حکومت نے 12 فرانسیسی اہلکاروں کو اڑتالیس گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ فرانس میں الجزائر کے تین شہریوں کی گرفتاری کے بعد کی کشیدہ صورتحال پر پیش آیا ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئل باروٹ نے مزید کہا کہ وہ الجزائرکے حکام سے اس اقدام کو واپس لینے کی استدعاکرتے ہیں تاہم اگر الجزائر ان اقدامات سے باز نہیں آتا تو فرانس کی جانب سے فوری ردعمل آئے گا۔ 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ان 12 افراد میں سے چند کا تعلق فرانس میں وزارتِ داخلہ سے ہیں۔ 

الجزائر کے شہریوں کے خلاف ٹرائل 

جمعہ کے روز فرانسیسی استغاثہ نے الجزائر کے تین شہریوں پر فردِ فرم عائد کی تھی۔ ان تینوں افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے فرانس میں سیاسی پناہ لیے ہوئے الجزائر کے ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بوخورس کو پیرس کے مضافات سے اغوا کیا۔ 

بوخورس الجزائر حکومت کا شدید مخالف ہے اور ان کے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹک ٹاک پر دس لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔ وہ 2016 سے فرانس میں رہائش پذیر ہیں اور انہیں 2023 میں فرانس میں سیاسی پناہ دی گئی تھی۔  

ان کے وکیل کے مطابق بوخورس کو اپریل 2024 میں اغوا کیا گیا تھا۔ تاہم انہیں اگلے ہی دن چھوڑ دیا گیا تھا۔ اغوا کے اس مقدمے کے حوالے سے ہی فرانس میں الجزائر کے تین شہریوں پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ الجزائر کی جانب سے فرانسیسی اہلکاروں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ اسی تناظر کی ایک کڑی ہے۔  

دوسری جانب الجزائر کی حکومت کی طرف سے فرانسیسی حکام سے بوخورس کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ ان پر دھوکہ دہی اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمات چلائے جا سکیں۔ اب تک الجزائر حکومت کی جانب سے نو مرتبہ بوخورس کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے ہیں۔

Watch Live Public News