ویب ڈیسک: سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے مشیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ گزشتہ ایک سال سے ایف جے اے کے مشیر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:خان نے جس دن کہااستعفیٰ دو اس دن۔۔۔! شیرافضل مروت نے بڑااعلان کردیا
اس سے قبل سپریم کورٹ میں حلف برداری تقریب کے بعد جسٹس منصور علی شاہ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کون کتنا کام کرتا ہے، سب کچھ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پرموجود ہے، پتا چل جائیگا کس نے کتنی رپورٹ شدہ فیصلے دیے ہیں.
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے جسٹس منصورعلی شاہ نے صحافیوں سے خصوصی گفتگو کی، اس موقع پر ان سے سوال کیا گیا کہ چیف جسٹس کہتے ہیں کہ آپ کام نہیں کرتے کیاکہیں گے؟
جسٹس منصورعلی شاہ نے صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بالکل ہم تویہاں صرف چائے پینے آئے ہیں، ویسے کبھی فرصت ملے توریکارڈ دیکھ لیجئے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کچھ غلط نہیں کیا تو ریفرنس سے کیاڈرنا،جسٹس منصورعلی شاہ
انھوں نے کہا کہ آپ کومعلوم ہوجائے گا کون کتنا کام کرتا ہے، سب کچھ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پرموجود ہے، پتا چل جائے گا کس نے کتنی رپورٹ شدہ فیصلے دیے ہیں۔
جسٹس منصورعلی شاہ سے سوال کیا گیا کہ اگر حکومت کی طرف سے ریفرنس آیا تو گیا ہوگا؟ اس پرانھوں نے جواب دیا کہ جب ریفرنس آئے گا تو دیکھا جائے گا، کچھ غلط نہیں کیا تو ڈرنا کس بات کا۔ اوپراللہ دیکھ رہا ہے۔
انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ کسی سے کوئی ذاتی عناد یا اختلاف نہیں، کمرے میں موجود ہاتھی کسی کو نظرنہ آئے تو کیا کہہ سکتے، تمام ججزسے ملاقات ہوتی ہے اکٹھے چائے بھی پیتے ہیں۔ دیکھیے اس وقت بھی ہمارے ہاتھ پاؤں کانپ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کا بل بھی واپس لینے کی تحریک منظور
جسٹس منصورعلی شاہ سے پھر سوال کیا گیا کہ سرکیا دیگرججزبھی آپ کےساتھ ہیں؟ جسٹس منصورعلی شاہ نے جسٹس عقیل عباسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ دیکھیے یہ ہیں ناں میرے ساتھ۔
اس پر صحافی نے سوال کیا کہ یہ تو یہاں چائے پینے آئے ہیں، جسٹس عقیل عباسی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آپ پھرشاید مجھے جانتے نہیں ہیں۔