امریکا کے ایران پر مسلسل تیسرے روز بھی فضائی حملے، متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا

امریکا کے ایران پر مسلسل تیسرے روز بھی فضائی حملے، متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا
کیپشن: امریکا کے ایران پر مسلسل تیسرے روز بھی فضائی حملے، متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا

ویب ڈیسک: امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیسرے روز بھی فضائی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔

امریکی فوج کے مطابق شام 4 بج کر 45 منٹ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر تازہ فضائی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ حملے ایرانی فوج کو بھاری نقصان پہنچانے اور اس کی عسکری صلاحیت محدود کرنے کے لیے کیے گئے۔

بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی کہ ایران کے خلاف تازہ فضائی آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، جو تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔ بیان کے مطابق کارروائی کے دوران صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

سینٹ کام کے مطابق بوشہر، چاہ بہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس میں مختلف تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ایران کی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حملوں کے دوران ایرانی ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔ امریکی فوج کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو مکمل جنگی استعداد کے ساتھ ہر وقت کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ایک بار پھر بوشہر کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

ادھر پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے دو سپر آئل ٹینکروں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

پاسدارانِ انقلاب نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ جہازوں کو غیر قانونی راستے استعمال کرنے پر اکسا رہا ہے، اور خبردار کیا کہ "جارح دشمن" کے ساتھ تعاون کرنے والوں کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بحالی میں تاخیر ہوئی تو عالمی توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

Watch Live Public News