ویب ڈیسک: بھارت کی دوغلی سفارت کاری، اصولوں کے دعوے، منافقت، شنگھائی کوآپریشن کانفرنس میں ایران کا ساتھ دینے سے انکار۔
۱- بھارت جو ہمیشہ اپنی تہذیبی اقدار، انسانیت اور خودمختاری کے احترام کا راگ الاپتا ہے، ایران پر اسرائیلی فضائی حملوں کے وقت اپنی موقع پرستی اور بے اصولی کی اصل حقیقت سامنے لے آیا۔
۲- اگرچہ بھارت شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا رکن ہے ، ایک ایسا بلاک جس نے واضح طور پر اسرائیل کی غیر قانونی جارحیت کی مذمت کی، بھارت نے اپنے علاقائی اتحادیوں کے اجتماعی مؤقف سے الگ ہو کر خودغرضی کا ثبوت دیا۔
۳- بھارت نے نہ صرف ایران جیسے SCO رکن ملک کے ساتھ غداری کی بلکہ خود کو تاریخ کے غلط پہلو پر لا کھڑا کیا۔
۴- SCO کے تمام رکن ممالک نے ایران کی حمایت کی۔ سوائے بھارت کے۔
۵- SCO کے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کے حملے کو’ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا‘
• ایران کی خودمختاری پر حملہ اور علاقائی و عالمی امن کے لیے خطرہ کہا گیا، شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے اور عام شہریوں کی ہلاکت پر تشویش ظاہر کی گئی۔
• سیاسی و سفارتی حل پر زور دیتے ہوئے فوجی کارروائیوں کی مخالفت کی گئی۔
۶- بھارت نے SCO کی یکجہتی کو توڑ دیا۔ بھارت نے مشترکہ اعلامیہ سے ہٹ کر منافقانہ بیان دیا۔
۸- بھارت نے SCO کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے علیحدہ اور نرم لہجے میں ایک بیان جاری کیا جس میں اسرائیل کی مذمت تک نہ کی گئی۔
۹- یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کی وفاداریاں کہاں ہیں، اصولوں کے ساتھ نہیں، مفادات کے ساتھ۔
اگر بھارت SCO کے اصول نہیں مانتا، تو اسے فورم چھوڑ دینا چاہیے،SCO نے واضح طور پر’ اقوام متحدہ کے چارٹر، عالمی امن اور ریاستی خودمختاری سے وابستگی کا اعادہ کیا۔
• کسی بھی رکن ملک کے خلاف غیر قانونی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔
بھارت کا اس مؤقف سے اختلاف ظاہر کرتا ہے کہ وہ SCO کے بنیادی اصولوں سے غیر منسلک ہو چکا ہے۔
جو رکن SCO کے بنیادی اصولوں، امن و خودمختاری کے دفاع اور اجتماعی مؤقف کا احترام نہیں کرتا، اُسے اس فورم کا حصہ بننے کا کوئی حق نہیں۔
’’اخلاقی رہنما‘‘ کا جھوٹا دعویٰ، حقیقت میں موقع پرست، بھارت ایرانی شہریوں کے قتلِ عام پر خاموش رہا!
• SCO جیسے علاقائی اتحاد کی متحدہ آواز کو مسترد کیا۔
• اسلحہ سودوں اور لابنگ مفادات کی خاطر اسرائیلی جارحیت کا غیراعلانیہ دفاع کیا۔
• انسانیت کی بات کرتا ہے مگر ہر فیصلہ منافع اور مصلحت کی بنیاد پر کرتا ہے۔
یہ خودمختار خارجہ پالیسی نہیں، یہ منافقت پر مبنی سفارتی پالیسی ہے۔