ویب ڈیسک: محرم الحرام 1448 ہجری کے چاند کی رویت کے لیے مرکزی اور زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس پیر 15 جون کو ملک بھر میں منعقد ہوں گے، تاہم محکمہ موسمیات اور ماہرینِ فلکیات نے چاند نظر آنے کے امکانات انتہائی کم قرار دیے ہیں۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد کے اقبال ہال میں ہوگا، جس کی صدارت چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے۔ اجلاس میں ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں اور اطلاعات کا جائزہ لینے کے بعد محرم الحرام کے چاند سے متعلق حتمی اعلان کیا جائے گا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق نئے قمری ماہ کا چاند 15 جون کو صبح 7 بج کر 54 منٹ پر پیدا ہوگا، تاہم اسی روز 29 ذوالحج کی شام اس کی عمر انتہائی کم ہونے کے باعث پاکستان میں چاند نظر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
محکمہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم صاف یا جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے، لیکن چاند کی کم عمر اس کی رویت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوگی۔ پنجاب میں چاند رات 7 بج کر 59 منٹ پر غروب ہوگا۔
دوسری جانب رویت ہلال ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل خالد اعجاز مفتی نے فلکیاتی اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا ہے کہ غروبِ آفتاب کے وقت پاکستان کے تمام علاقوں میں چاند کی عمر 12 گھنٹے سے کم ہوگی، جبکہ عام طور پر ہلال کی رویت کے لیے چاند کی عمر کم از کم 18 گھنٹے یا اس سے زائد ہونا ضروری سمجھی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں غروبِ شمس اور غروبِ قمر کے درمیان تقریباً 37 منٹ جبکہ پشاور میں 42 منٹ کا فرق ہوگا، تاہم چاند کی کم عمر کے باعث صاف موسم میں بھی اس کا ننگی آنکھ، دوربین یا ٹیلی اسکوپ کے ذریعے نظر آنا انتہائی مشکل ہے۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق ذوالحجہ 1447 ہجری کے 30 دن مکمل ہونے کی صورت میں یکم محرم الحرام 1448 ہجری بدھ 17 جون 2026 کو ہونے کا امکان ہے۔ تاہم نئے اسلامی سال کے آغاز اور محرم الحرام کے چاند کی رویت سے متعلق حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہی کرے گی۔