ویب ڈیسک: اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب کا کہناہےکہ بلوچستان میں ایک ٹرین حادثہ ہوا، قومی اسمبلی میں میں نے درخواست کی کہ بلوچستان پر بات کی جائے،بدقسمتی سے قومی اسمبلی میں ٹرین حادثہ پر کوئی بات نہیں کی،اس واقعے میں جو لوگ شہید ہوئے ہیں ، اللہ ان کے درجات بلند کرے،یہ انٹیلیجنس میں ناکامی کی وجہ سے ہوا، کیا یہ ایجسنیاں ستو پر کر سو رہی ہیں۔ان ایجنسیوں کا احتساب ہونا چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب لاہور انسداد دہشتگری عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں نے وکلا سے شاہ محمود قریشی سمیت دیگر سے ملاقات کی درخواست کی ہے،بلوچستان میں ایک ٹرین حادثہ ہوا، قومی اسمبلی میں میں نے درخواست کی کہ بلوچستان پر بات کی جائے،بدقسمتی سے قومی اسمبلی میں ٹرین حادثہ پر کوئی بات نہیں کی،میں اسے حکومت نہیں انسٹالڈ ریجیم کہوں گا۔
عمرایوب نے کہا کہ یہ صحافی حضرات لکھیں گے کہ میں نے کچھ ماہ پہلے اس کی پیش گوئی کی ہے،اس واقعے میں جو لوگ شہید ہوئے ہیں ، اللہ ان کے درجات بلند کرے،بی ایل اے کی اس دہشتگری کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں،ہمارے جوان آئے روز اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرتے ہیں ، ہم انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،یہ انٹیلیجنس میں ناکامی کی وجہ سے ہوا، کیا یہ ایجسنیاں ستو پر کر سو رہی ہیں۔ان ایجنسیوں کا احتساب ہونا چاہیے۔
9 مئی مقدمات: عمر ایوب کی درخواست ضمانت میں 8 اپریل تک توسیع
اے ٹی سی کے جج منظر علی گل کے رخصت پر ہونے کے باعث 9 مئی جناح ہاؤس، عسکری ٹاور حملہ اور تھانہ شادمان نذر آتش مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما کی درخواست ضمانت پر سماعت نہ ہوسکی۔
عمر ایوب اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے اپوزیشن لیڈر کی عبوری ضمانت میں 8 اپریل تک توسیع کر دی۔
یاد رہے کہ عدالت نے عمر ایوب کی عبوری ضمانت میں آج تک توسیع کر رکھی تھی، اپوزیشن لیڈر سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں پر بغاوت اور کارکنان کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے کا الزام ہے۔