ویب ڈیسک: اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی جمعہ 13 مارچ 2026 کو اپلوڈ کی گئی تازہ ویڈیو سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی۔
ویڈیو میں نیتن یاہو کی ممکنہ چھ انگلیاں دیکھنے کے دعوے اور مصنوعی ذہانت یا ڈیپ فیک کے الزامات نے صارفین میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔
اس سے قبل نیتن یاہو کے حوالے سے افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ وہ ایرانی حملے میں جاں بحق ہو گئے ہیں، حالانکہ ان کی آخری سرکاری ویڈیو 8 مارچ کو جاری ہوئی تھی۔
אתמול במסיבת העיתונאים עמדתי על היעדים הברורים של המערכה: פגיעה במשטר הטרור באיראן, המשך המאבק מול שלוחותיו, והבטחת ביטחונה ועתידה של ישראל.
— Benjamin Netanyahu - בנימין נתניהו (@netanyahu) March 13, 2026
אנחנו לא מחכים. אנחנו יוזמים, אנחנו תוקפים ואנחנו עושים זאת בעוצמה.
צפו בדברים המלאים >> pic.twitter.com/hubJWVdiKQ
ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر یہ شبہ پھیل گیا کہ نیتن یاہو زندہ نہیں ہیں اور حکام اے آئی سے تیار شدہ مواد استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم فیکٹ چیکنگ اور مصدقہ ذرائع کے مطابق، ان افواہوں کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نیتن یاہو اب بھی زندہ ہیں اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران عوامی سطح پر موجود ہیں، جبکہ ان کا سرکاری ایکس اکاؤنٹ معمول کے مطابق تازہ بیانات شیئر کرتا رہا ہے۔