(ویب ڈیسک) دنیا کے بدلتے حالات میں پاکستان کی اسٹریٹیجک اہمیت عالمی طاقتوں کے لیے مزید نمایاں ہو رہی ہے۔
خصوصاً اسلام آباد مذاکرات ( Islamabad Talks) کے بعد پاکستان خطے اور عالمی سفارت کاری میں ایک اہم کردار کے طور پر ابھرا ہے۔ پاکستان کے امریکہ سمیت مغربی دنیا کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات کو نئی جہت ملی ہے۔ پاکستان کی بڑھتی سفارتی اہمیت کے باعث اسرائیل اور بھارت کا پاکستان مخالف بیانیہ عالمی سطح پرغیر موثر ہو چکا ہے،
امریکی نشریاتی ادارے سی این این پر تجزیہ کار فرید زکریا نے پاکستان کو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور مسلم دنیا کے درمیان ایک “اسٹریٹیجک پل” قرار دیا۔
تجزیہ کار فرید زکریا کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں کے بڑھتے مقابلے، توانائی راہداریوں، افغانستان کی صورتحال، ایران اور اہم معدنیات کی دوڑ میں پاکستان کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
فرید ذکریا نے کہا کہ امریکہ اب پاکستان کو ماضی کے محدود تناظر میں نہیں دیکھتا بلکہ بدلتی عالمی صورتحال میں پاکستان کی جغرافیائی اور سفارتی اہمیت برقرار ہے، امریکہ کو حساس اور مشکل خطوں میں مستحکم اور قابل شراکت داروں کی ضرورت ہے اور پاکستان ان اہم ممالک میں شامل ہے، پاک امریکہ تعلقات محض وقتی سیاسی بیانیوں پر نہیں بلکہ گہرے اسٹریٹیجک مفادات پر قائم ہیں۔
ماہرین کے مطابق چین کے بڑھتے اثرورسوخ، افغانستان کی غیر یقینی صورتحال اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی سیاست نے پاکستان کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن، معدنی وسائل اور علاقائی رابطہ کاری کی صلاحیت اسے عالمی طاقتوں کیلئے ناگزیر بناتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وقتی پروپیگنڈ اور میڈیا بیانیے پاکستان اور امریکہ کے طویل المدتی اسٹریٹیجک مفادات کو متاثر نہیں کر سکتے، واشنگٹن میں پاکستان کے حوالے سے سکیورٹی سے آگے بڑھ کر معیشت، تجارت، معدنیات اور علاقائی استحکام پر مبنی سوچ مضبوط ہو رہی ہے، پاکستان خطے میں سفارت کاری، استحکام اور جیو اسٹریٹیجک رابطوں کے باعث عالمی سیاست میں اپنی اہمیت مسلسل منوا رہا ہے۔