ویب ڈیسک: بنگلادیش کے خلاف ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کے فاسٹ بولر مچل اسٹارک کو اس وقت غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب فیلڈر کی پوزیشن میں معمولی خلاف ورزی کے باعث ان کی گیند کو نو بال قرار دے دیا گیا۔
شارٹ بال کی حکمت عملی کے تحت آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے لیگ سائیڈ پر ڈیپ فائن لیگ، فائن لیگ اور ڈیپ اسکوائر لیگ کے قریب فیلڈرز تعینات کر رکھے تھے۔
کرکٹ کے قوانین کے مطابق اسکوائر لیگ کے پیچھے مقررہ حد سے زیادہ فیلڈرز موجود نہیں ہوسکتے۔ اسٹارک کی گیند کے وقت مارنس لبوشین معمولی طور پر اسکوائر کے پیچھے چلے گئے، جس پر امپائر نے فیلڈنگ کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے گیند کو نو بال دے دیا۔ یوں ایک معمولی سی پوزیشننگ کی غلطی نے آسٹریلیا کو نقصان پہنچایا اور اسٹارک کی گیند ضائع ہوگئی۔
Australia conceded a no-ball with a rare fielding moment, with the rule going back to the Bodyline days #AUSvBAN live blog: https://t.co/kxb9HOBsrk pic.twitter.com/BMwbKCH7eW
— cricket.com.au (@cricketcomau) August 15, 2026
یہ قانون بنیادی طور پر باڈی لائن طرز کی بولنگ کی حوصلہ شکنی اور بیٹر کو حد سے زیادہ لیگ سائیڈ فیلڈنگ سے بچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹی وی پر دکھائی جانے والی تصویر میں لبوشین بظاہر درست پوزیشن میں نظر آ رہے تھے، تاہم گیند پھینکے جانے کے عین وقت ان کی پوزیشن مقررہ حد سے آگے نکل گئی تھی، جس کی وجہ سے امپائر نے نو بال کا فیصلہ دیا۔