ویب ڈیسک: مولانافضل الرحمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب تک سیاستدان اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتہ کرکے اقتدار میں آتے رہیں گے تو آئین ختم ہوجائے گا۔ماضی میں جو کچھ بھی ہوا اس کے خلاف ہوں۔ گزشتہ دو انتخابات پرعوام نے اعتماد نہیں کیا۔ملک میں دھاندلی سے پاک الیکشن کی ضرورت ہے ۔
سربراہ جمعیت علماءاسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ سیاستدان ہوں اس لئےہمیشہ مذاکرات کا حامی رہا ۔سیاست میں انتقام کا تاثر ٹھیک نہیں۔ سیاستدانوں کو جیلوں میں نہیں ہونا چاہئے۔
مولانافضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ نوازشریف اورمریم کو جیل بھیجنے کی بھی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے پی ٹی آئی کے مطالبات کا علم نہیں ،ماضی میں جو کچھ بھی ہوا اس کے خلاف ہوں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاست دان ہمیشہ اپنی حکومت بنانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتا کرتے ہیں۔ جب تک ایسا ہوتا رہے گا تو آئین ختم ہو جائے گا۔ جہاں تک اداروں کی مداخلت کی بات ہے۔ وہ اپنی اتھارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے الیکشن مینج کرتے ہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ کا کوئی نظریہ نہیں ، وہ اپنی اتھارٹی کو مضبوط بناتے ہیں۔ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے آپ آئین کے تحت رہ کر اپنا کردار نبھائیں ۔آج ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ بے معنی ہے۔ اگر دھاندلی کے الیکشن کی گنجائش ہے تو دھاندلی سے پاک الیکشن کی گنجائش کیوں موجود نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے کیوں ٹرمپ کو اپنے دماغ پر سوار کیا ہوا ہے۔ اس خطے میں امریکہ بری طرح شکست کھا کر بھاگا ہے۔ ہمارے مختلف قبائلی علاقوں میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔ہمارے علاقوں میں لوگ غیر اعلانیہ طور پر اپنے علاقے چھوڑ رہے ہیں ۔پتہ نہیں۔ پنجاب سمیت دوسرے علاقوں میں کیوں اس بات کا خیال نہیں کیا جا رہا ۔ہمیں اپنے ملک کی سلامتی کا خیال کرنا چاہیے۔قوم کو خودمختاری اور خوداری کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔ہم اپنے ملک میں کسی ادارے کی اجارہ داری ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بلوچستان میں صوبائی اسمبلی حلقہ کی نادرا کی ویری فیکیشن کی تو نادار نے کہا صرف دو فیصد پر تصدیق ہوسکی ۔ اگر ایسی چیزیں الیکشن میں ہوتی رہیں گی تو کیسے معاملات ٹھیک ہوں گے؟جب تک ادارے اپنے عزائم پر ایجنڈے پر نظرثانی نہیں کریں گے تو اعتماد کی فضا کیسے بحال ہوگی؟