ویب ڈیسک: سابق مس انڈیا اور بالی ووڈ اداکارہ سلینا جیٹلی نے پہلی بار شوہر سے طلاق کی تکلیف دہ کہانی کھل کر بیان کر دی ہے۔ اداکارہ نے بتایا کہ شادی کی 15ویں سالگرہ کے موقع پر انہیں شوہر کی جانب سے طلاق کے کاغذات تھما دیے گئے، اور اس دوران جسمانی و ذہنی تشدد، بچوں کی جدائی اور اثاثوں پر قبضے کے الزامات عائد کیے گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، سلینا جیٹلی نے 2011 میں آسٹریا کے بزنس مین پیٹر ہیگ سے شادی کی تھی اور بعد ازاں بیرون ملک منتقل ہو گئیں۔ مداحوں کو لگا کہ وہ پرسکون گھریلو زندگی گزار رہی ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔ اداکارہ نے تصدیق کی کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدہ ہو چکی ہیں اور برسوں تک تشدد کا شکار رہیں۔
سلینا جیٹلی نے بتایا کہ 11 اکتوبر 2025 کو رات تقریباً ایک بجے وہ پڑوسیوں کی مدد سے آسٹریا سے نکل کر بھارت واپس آئیں، اور بہت کم رقم کے ساتھ آنے کے دوران اپنے بچوں کو پیچھے چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ کسٹڈی کے عدالتی حکم کے باوجود انہیں اپنے بچوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور ان پر جذباتی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ بھارت واپس آنے کے بعد انہیں اپنے گھر میں داخل ہونے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑا کیونکہ ان کے شوہر نے ملکیت پر قبضہ کر رکھا تھا، اور طویل قانونی لڑائیوں کی وجہ سے انہیں بھاری قرضے لینے پڑے۔
سلینا جیٹلی نے لکھا کہ علیحدگی کے دوران ان سے شادی سے پہلے کی جائیداد سے دستبرداری اور ایسی شرائط قبول کرنے کا مطالبہ کیا گیا جو ایک عورت اور ماں کے طور پر ان کی آزادی اور وقار کے خلاف تھیں۔
مزید براں، اداکارہ کے بھائی اس وقت متحدہ عرب امارات کی جیل میں قید ہیں اور وہ ان کے لیے قانونی مدد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔
سلینا جیٹلی کی مشہور فلموں میں *نو انٹری، جانشین، ٹام، ڈک اینڈ ہیری* اور *تھینک یو* شامل ہیں، اور طویل عرصے سے وہ بالی ووڈ میں کام نہیں کر رہی ہیں، تاہم اب ان کی درد بھری کہانی نے مداحوں کو دکھی کر دیا ہے۔