ویب ڈیسک: ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر امریکا، جوہری مذاکرات کے لیے یورینیم افزودگی روکنے کی شرط رکھتا ہے تو ایسے مذاکرات ممکن نہیں۔
تفصیلات کے مطابق اس موقف کا اظہار ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کو دیے گئے انٹرویو میں کیا۔
علی ولایتی نے کہا کہ "ایران اپنے پرامن جوہری حق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اگر مذاکرات کی شرط ہی ہماری یورینیم افزودگی روکنا ہے، تو ایسے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔"
دوسری جانب ایرانی اعلیٰ مذاکرات کار عباس عراقچی اور امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کے درمیان اب تک پانچ دور مذاکرات ہو چکے ہیں، تاہم کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کا سامنا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کئی بار پیش رفت کے قریب پہنچے، لیکن صیہونی ریاست کے اچانک حملوں نے اس عمل کو بارہا متاثر کیا۔ ایرانی حکام ان حملوں کو مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے اس حالیہ اعلان سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اگر امریکا نے اپنی پوزیشن میں نرمی نہ کی تو جوہری معاہدے کی بحالی مزید پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتی ہے۔