ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو آئندہ ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک وہ خود انہیں روکنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے منگل کے روز ایران کے ساتھ بات چیت کی اور تہران پر معاہدہ کرنے کے لیے زور دیا۔ ان کے بقول، ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق اہداف پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران معاہدے پر آمادہ نہ ہوا اور مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو آئندہ ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایران میں اب بھی کچھ حد تک جنگ لڑنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم وہ پہلے جیسی نہیں رہی۔
آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے حالیہ بیان پر وضاحت کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ وہاں ٹول ٹیکس عائد کرنے کے خیال کے حامی نہیں۔ ان کے مطابق، وہ نہیں چاہتے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی ملک یا جہاز سے ٹول وصول کیا جائے۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خلیجی ریاستیں ٹول ٹیکس ادا کرنے کے بجائے امریکا میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گی۔