ویب ڈیسک: دنیا بھر کے رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
عالمی رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے مذاکرات میں پاکستان کے فعال اور تعمیری کردار کی بھی تعریف کی۔
امریکی اور ایرانی حکام نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے، ایران پر عائد امریکی محاصرے کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور یہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
صدر ٹرمپ کے اعلان سے کچھ دیر قبل وزیراعظم شہباز شریف، جو ثالثی کی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے تھے، نے تصدیق کی تھی کہ مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔ مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تنازع کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کو فوری اور مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور آئندہ مذاکرات کے فریم ورک پر اتفاق رائے حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔
I warmly congratulate the US & Iran for having reached a peace deal that provides for an immediate & permanent ceasefire, the reopening of the Strait of Hormuz, as well as a framework for further negotiations. This represents a critical step towards the peaceful settlement of the…
— António Guterres (@antonioguterres) June 14, 2026
گوتریس نے پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک کے کردار کو بھی سراہا، جنہوں نے مذاکرات کی کامیابی میں اہم اور تعمیری کردار ادا کیا۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے معاہدے کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے خوش آئند پیش رفت قرار دیتے ہوئے پاکستان کی غیرمعمولی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے امریکا اور ایران کی قیادت کے ساتھ ساتھ قطر اور سعودی عرب کی معاونت کو بھی سراہا۔
ABD ve İran arasında varılan mutabakatı, bölgemizde sulh-u sükûnun hâkim kılınması adına önemli bir gelişme olarak görüyor, memnuniyetle karşılıyorum.
— Recep Tayyip Erdoğan (@RTErdogan) June 14, 2026
Tüm dünyanın uzun süredir ihtiyaç duyduğu bu haberin bölgemizde kalıcı huzur ve güven ortamının tesisine vesile olmasını…
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ ان کی حکومت معاہدے کا خیرمقدم کرتی ہے اور طویل عرصے سے کشیدگی میں کمی اور جنگ کے خاتمے کی حامی رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر ثالث ممالک کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
— Anthony Albanese (@AlboMP) June 14, 2026
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس پیش رفت کو جنگ کے خاتمے، علاقائی استحکام اور آبنائے ہرمز کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ اور ثالثی میں شامل ممالک کو مبارکباد دی۔
My statement on today's agreement between the United States and Iran. pic.twitter.com/taQZufv7ij
— Keir Starmer (@Keir_Starmer) June 14, 2026
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے معاہدے پر فوری اور مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت آبنائے ہرمز کو غیرمشروط طور پر کھولنے اور عالمی تجارت کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگی۔
قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا، جن کی کوششوں سے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا۔
جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے اسے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بھی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ جہازرانی یقینی بنائی جائے گی اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر بھی جلد جامع اتفاقِ رائے سامنے آئے گا۔
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے اس معاہدے کو کشیدگی میں کمی اور استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی سب سے مؤثر راستہ ہیں۔
New Zealand welcomes the US - Iran Memorandum of Understanding aimed at ending the conflict. We want to see swift implementation including the reopening of the Strait of Hormuz. We urge all parties to continue the positive momentum. While the situation remains fragile, this is a…
— Winston Peters (@NewZealandMFA) June 14, 2026
دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی پر مشتمل ای-4 ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق طے شدہ اقدامات پر عمل درآمد کرتا ہے تو اس کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی یا خاتمے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
مشترکہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ اس مقصد کے حصول کے لیے امریکا، ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ مل کر کام جاری رکھا جائے گا۔