ویب ڈیسک: پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس سلسلے میں باضابطہ احتجاجی مراسلہ نئی دہلی کو ارسال کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ خط سیکرٹری آبی وسائل سید علی مرتضیٰ نے اپنے بھارتی ہم منصب کو لکھا ہے، جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ معاہدے کی کسی شق میں ایسی اجازت موجود نہیں۔
مراسلے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ معاہدے کے الفاظ میں ”معطلی“ کا کوئی تصور تک شامل نہیں اور پاکستان اسے اپنی اصل حالت میں ہی تسلیم کرتا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ایسی یکطرفہ کارروائیاں نہ صرف معاہدے کی روح کے منافی ہیں بلکہ عالمی اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔
ادھر عالمی بینک نے بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو صرف دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے ختم یا تبدیل کیا جا سکتا ہے، یکطرفہ طور پر اسے معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
یاد رہے کہ 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ عالمی ثالثی کے ذریعے طے پایا تھا، جو دریائی پانیوں کی منصفانہ تقسیم کے لیے ایک تاریخی دستاویز تصور کیا جاتا ہے۔
حالیہ کشیدگی کا پس منظر:
22 اپریل 2025 کو پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے بعد تعلقات میں واضح تناؤ دیکھنے میں آیا۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے ساتھ پاکستانی سفارتکاروں پر پابندیاں عائد کیں، ویزے منسوخ کیے اور پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجا۔
پاکستان نے اس کا سخت جواب دیتے ہوئے بھارتی سفارتی عملے کو محدود کر دیا، تجارتی روابط منقطع کیے، فضائی حدود بند کر دی، اور سکھ یاتریوں کے سوا تمام بھارتی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے۔
مزید برآں، 6 اور 7 فروری کی درمیانی شب بھارت نے پاکستان کے مختلف شہروں پر میزائل حملے کیے جن میں 26 شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ پاکستان نے جواباً پانچ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے۔
10 فروری کو بھارتی حملوں کے بعد پاکستان نے "آپریشن بنیان مرصوص" کے تحت جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارت کے متعدد عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں ادھم پور، پٹھان کوٹ، براہموس سائٹس اور S-400 دفاعی نظام شامل تھے۔