(ویب ڈیسک )10 مئی 2025 کو پاکستان ایئر فورس (PAF) کے ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز، ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے ایک تفصیلی بریفنگ میں اس فضائی جھڑپ کی تفصیلات بیان کیں، جسے بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی فضائی لڑائی قرار دیا جا رہا ہے۔
انٹرنیشنل ریلیشنز انسائٹس اینڈ اینالسز کی رپورٹ کے مطابق یہ جدید بی وی آر (BVR) یعنی "بے بصری حدود سے آگے" ہونے والی جنگ تھی، جس میں سینکڑوں کلومیٹر دور سے میزائل داغے گئے، اور طیاروں نے ایک دوسرے کو دیکھے بغیر حملے کیے۔یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ بڑی فضائی لڑائی تھی۔
یہ جھڑپ جدید ٹیکنالوجی، تربیت، اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے اعلیٰ معیار کی عکاس تھی، جو بی وی آر(BVR) جنگ کی نئی سطح کو ظاہر کرتی ہے۔ بھارت اور پاکستان جیسے علاقائی طاقتوں کے درمیان ہونے والی یہ لڑائی اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کی فضائی برتری کا دار و مدار طاقتور ریڈار، سینسرز، اور فوری فیصلوں پر ہے۔
انٹرنیشنل ریلیشنزانسائٹس اینڈ اینالسز کی رپورٹ یہاں پڑھیں:
بی وی آر وارفیئر:
بی وی آر (Beyond Visual Range) فضائی لڑائی وہ ہوتی ہے جس میں پائلٹ دشمن طیارے کو دیکھے بغیر، صرف ریڈار اور دوسرے سینسرز کی مدد سے میزائل فائر کرتے ہیں۔ یہ فاصلے 30 سے 300 کلومیٹر تک ہو سکتے ہیں۔
1950 کی دہائی میں بی وی آر ٹیکنالوجی کا آغاز ہوا، لیکن ویتنام کی جنگ کے دوران ان میزائلوں کی کامیابی کم رہی کیونکہ ریڈار میں خلل، میزائل کی ناقص کارکردگی، اور پائلٹ کی تربیت مسائل کا سبب بنے۔

1991 کی خلیجی جنگ میں بی وی آر ٹیکنالوجی نے اپنی اصل صلاحیت دکھائی۔ امریکی ایف-15 طیاروں نے ایڈوانس میزائل اور جدید ریڈار سسٹمز کی مدد سے کامیاب حملے کیے، اکثر 50 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر۔ اب یہ ٹیکنالوجی ہر بڑی فضائی طاقت کا بنیادی حصہ ہے۔
پاک بھارتی فضائی لڑائی میں بی وی آر کا کردار:
پاکستان ایئر فورس کے مطابق اس جھڑپ میں دونوں جانب سے 100 سے زائد طیارے شامل تھے، جن میں بھارت کے 70 اور پاکستان کے 40 طیارے شامل تھے۔ لیکن یہ لڑائی صرف تعداد کی نہیں بلکہ نیٹ ورک، سینسرز، اور ایئر کمانڈ کی برتری کی تھی۔
بھارت اور پاکستان کی سرحدوں کے جغرافیہ کی وجہ سے یہ طیارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے پر میزائل داغ سکتے تھے، جس سے براہ راست سرحد پار نہ کرنے کے باوجود لڑائی ممکن ہوئی۔
1. Standoff Postures: دونوں ممالک کے طیارے اپنی فضائی حدود میں رہ کر میزائل فائر کر سکتے تھے، جس سے سفارتی کشیدگی میں کمی ممکن ہوئی۔
2. Sensor Range Advantage: پنجاب کے میدانوں اور اونچائی پر موجود AWACS کیوریج کی وجہ سے دونوں طرف طیارے ایک دوسرے کو بہت دور سے دیکھ اور انگیج کر سکتے تھے۔

3. Short Time-to-Target: چونکہ فاصلے کم تھے، میزائل داغنے کے بعد صرف دو منٹ میں ہدف تک پہنچ سکتے تھے، جس سے فوری فیصلوں کی اہمیت بڑھ گئی۔
4. Rules of Engagement (ROE): بھارت کے پہلے حملے کے بعد پاکستان نے اپنی پالیسی بدل لی اور دفاع کی بجائے حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ اب ریڈار پر لاک ہونے کے بعد ہی میزائل فائر کیے جا سکتے تھے، بنا اس کے کہ آنکھ سے ہدف دیکھا جائے۔
پاکستان کے مطابق بھارت نے 60 سے 70 طیارے اڑائے، جن میں 14 رافال طیارے شامل تھے۔ جواب میں پاکستان نے 42 طیارے اڑائے اور 5 بھارتی طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا، جن میں شامل ہیں:
3 رافال
1 میگ-29
1 ایس یو-30 ایم کے آئی
بھارت نے اپنے کچھ طیاروں کے نشانہ بننے کی تصدیق کی ہے لیکن تفصیلات جاری نہیں کیں۔ پاکستان نے اپنے دعوے کی بنیاد ریڈار ڈیٹا، میزائل کی سمت اور رفتار پر رکھی ہے۔
طیارے 100–150 کلومیٹر کے فاصلے پر تھے، اور مختلف بلندیوں پر اڑ کر اپنے مخصوص کردار ادا کر رہے تھے، جیسے کہ حملہ آور، محافظ، یا ریڈار سپورٹ فراہم کرنے والے طیارے۔

بی وی آر ہتھیاروں کا استعمال :
اس لڑائی میں پاکستان نے JF-17 اور J-10C طیارے استعمال کیے جبکہ بھارت نے رافال، ایس یو-30، اور میگ-29 طیارے میدان میں اتارے۔ دونوں نے AWACS کا استعمال کیا اور جدید بی وی آر میزائل استعمال کیے
:PL-15(چین) پاکستان کے J-10C طیاروں پر نصب یہ میزائل 200–300 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس میں درمیانی راستے میں ہدف بدلنے کی صلاحیت ہے۔
Meteor (یورپ) بھارت کے رافال پر نصب یہ میزائل دنیا کے سب سے جدید بی وی آر ہتھیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ میزائل رفتار برقرار رکھتے ہوئے ہدف کو ایسا لاک کرتا ہے کہ بچنا ممکن نہیں ہوتا۔
یہ پہلا موقع تھا کہ PL-15 اور Meteor میزائل ایک دوسرے کے خلاف حقیقی جنگ میں استعمال ہوئے۔
سینسر ، جیمرز اور ڈیٹا وار:
یہ لڑائی اصل میں میزائلوں سے زیادہ، سینسرز اور الیکٹرانک جنگی وارفیئر کے درمیان تھی۔
پاکستان نے Defensive Counter-Air حکمت عملی اپنائی، جس میں AWACS طیارے (جیسے کہ ZDK-03 یا Saab Erieye) نے 300 کلومیٹر سے زیادہ دور بھارتی طیاروں کی نگرانی کی۔
بھارت نے Phalcon AWACS اور زمینی ریڈارز کا استعمال کیا، جو رافال اور Su-30 طیاروں سے منسلک تھے۔

دونوں جانب سے الیکٹرانک جنگ (ECM) میں جدید جیمز، چاف، اور ریڈار کو دھوکہ دینے والے سسٹم استعمال کیے گئے تاکہ دشمن کا لاک توڑا جا سکے یا میزائل راستہ بھٹک سکے۔ ایک پاکستانی افسر نے کہا، "یہ صرف زیادہ فاصلے تک مار کرنے کا مقابلہ نہیں تھا، بلکہ دشمن کے سینسرز کو اندھا کرنے کا مقابلہ تھا۔"
فضائی جنگ کا خاموش انقلاب:
زیادہ تر فضائی لڑائیاں 20–30 منٹ میں ختم ہو جاتی ہیں، مگر یہ لڑائی ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔ اس کی وجہ مسلسل CAP گشت اور فضائی ایندھن بھرنے کا انتظام تھا، جس سے طیارے طویل عرصہ فضا میں رہ سکے۔
یہ لڑائی صرف ہتھیاروں کا مظاہرہ نہیں تھی بلکہ حکمت عملی، پروگرامنگ، اور انسانی فیصلوں کی جنگ تھی۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ آج کی فضائی جنگ صرف رفتار یا بلندی کی نہیں، بلکہ ڈیٹا، سینسر، اور فوری فیصلوں کی ہے۔
یہ بھارت- پاکستان فضائی تصادم جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کے ارتقاء کا نیا سنگ میل ہے۔ اب برتری ان کے پاس ہے جو پہلے دیکھے، پہلے فائر کرے، اور دوسرے کے نظام کو ناکام بنائے۔
BVR جنگ جو کبھی صرف منصوبہ بندی کی حد تک تھی، اب حقیقت بن چکی ہے۔ آج کا پائلٹ صرف لڑاکا نہیں بلکہ ایک پورے سینسر اور کمانڈ نیٹ ورک کا حصہ ہے۔
چاہے تمام دعوے کبھی ثابت ہوں یا نہ ہوں، ایک بات یقینی ہے: BVR کی برتری کا دور اب آ چکا ہے – اور یہی آج کی فضائی جنگ کا نیا معیار ہے۔
