ویب ڈیسک: سکواڈرن لیڈر کامران بشیر مسیح کا تعلق 462 عیسیٰ نگری گاؤں سمندری (فیصل آباد) سے ہے، کامران نے کب ایئرفورس میں گیا؟ پچپن کیسا گزرا؟ والد نے بیٹے کی جدوجہد کا سفر بیان کردیا۔
تفصیلات کےمطابق پاکستانی ہیرو پائلٹ کامران کے والد بشیر کا کہنا تھا بیٹے نے جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا اُس کے بارے میڈیا کے ذریعے پتہ چلا، بچپن سے ہی اُس کو ایئرفورس میں جانے کا شوق تھا، وہ ریموٹ والے جہاز خرید کے لے آتا ان کو کھولتا اور پھر اڑاتا اور گاؤں والا کو دکھاتا تھا، اس کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی، 2007 میں بیٹے نے ایئرفورس کے ٹیسٹ پاس کئے، اکتوبر 2007 میں ہی ایئرفورس کو جوائن کرلیا تھا، رسالپور میں 3 سال ٹریننگ کی۔
بہادر سپوت، اسکواڈرن لیڈ کامران کے والد بشیر کا کہنا تھا کہ پڑھائی میں بھی کامران اچھا تھا ، ایف ایس سی میں 764 یا 864 نمبر تھے، لاسال ہائی سکول فیصل آباد سے کامران نے میٹرک کی،عبدالسلام کالج سے ایف ایس سی کی۔
کامران کے والد نے بیٹے کا کمرہ بھی دکھایا جہاں وہ آکر آرام کرتا ہے، دیوار پر لگی تصویر کے بارے بتایا کہ یہ کامران کی بیٹی ہے اور پیچھے کھڑی کامران کی والدہ ہیں، کامران سمیت اپنے تینوں بچوں کو سائیکل پر سکول چھوڑنے جاتا تھا۔

والد نے بیٹے سےمحبت کا قصہ سناتے ہوئے کہا کہ جب میں گھر آتا تھا وہ باہر چلا جاتا تھا اور جب میں باہر جاتا تھا تو وہ گھر آجاتا تھا، مجھے سے ڈرتا ہے۔
واضح رہے کہ پاک فضائیہ نے بھارت کی ریاست پنجاب کے علاقے آدم پور میں قائم بھارتی ایئربیس پر نصب دنیا کا جدید ترین میزائل سسٹمز میں سے ایک ایس-400 تباہ کردیا تھا اور اس کی لاگت کا تخمینہ 1.5 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔
پوری قوم بھارتی S-400 ائیر ڈیفنس سسٹم کے پرخچےاڑانےوالےکامران بشیر مسیح اور پاک فصائیہ کے شیر دل سپوتوں کا شکریہ ادا کررہی ہے، اس تاریخ ساز فتح کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔