ویب ڈیسک: بھارت کی جانب سے آنے والی آلودہ ہواؤں اور درجہ حرارت میں کمی کے باعث لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔
ادارہ تحفظ ماحولیات پنجاب (ای پی اے) اور اسموگ و موسمیاتی نگرانی کے جدید نظام کے تحت حاصل اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس 211 ریکارڈ کیا گیا ہے، جو انسانی صحت کیلئے ’’انتہائی غیر صحت مند‘‘ زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
آئی کیو ایئر کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور پہلے جبکہ بھارتی شہر کولکتہ دوسرے اور دہلی تیسرے نمبر پر ہے۔
پنجاب بھر کا اوسط اے کیو آئی 160 رہا، جو عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مقرر کردہ معیار سے کہیں زیادہ ہے۔
ای پی اے کے مطابق بھارت سے داخل ہونے والی آلودہ ہوا نے فضا میں معلق ذرات (پارٹیکیولیٹ میٹر) کی مقدار میں اضافہ کیا، جس سے لاہور کا فضائی معیار تیزی سے بگڑ گیا۔ اس وقت ہوا کی رفتار ایک سے تین کلو میٹر فی گھنٹہ کے درمیان ہے، جس کی وجہ سے آلودہ ذرات فضا میں معلق رہنے کے بجائے زمین کے قریب جمع ہو رہے ہیں۔