یورپی یونین کا امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کاعندیہ

یورپی یونین کا امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کاعندیہ
کیپشن: یورپی یونین کا امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کاعندیہ

ویب ڈیسک: یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو وہ امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرے گی، جن میں ٹوائلٹ پیپر، سویابین، میک اپ کے سامان سمیت سینکڑوں اشیاء شامل ہوں گی۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز یورپی یونین نے ان مصنوعات کی ایک طویل فہرست جاری کی ہے جن پر امریکا سے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں 25 فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی لگائی جائے گی۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک پر بھاری درآمدی ٹیکس نافذ کیے جانے کے جواب میں اُٹھایا جا رہا ہے، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ امریکی تجارتی پالیسیوں کے خلاف 90 روز کے لیے جوابی اقدامات مؤخر کیے گئے تھے تاکہ مذاکرات کو موقع دیا جا سکے، تاہم اگر بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو مجوزہ ٹیکس نافذ کر دیے جائیں گے۔

متوقع طور پر جولائی کے وسط سے تقریباً 400 امریکی مصنوعات پر اضافی محصولات لگ سکتے ہیں، جبکہ مزید 1,300 اشیاء پر مستقبل میں درآمدی ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

یورپی یونین کی اس فہرست میں اگرچہ امریکا کی سب سے بڑی برآمدات مثلاً تیل و گیس، ادویات، ہوابازی سے متعلق پرزے، طبی آلات اور گاڑیاں بڑی حد تک محفوظ ہیں، تاہم سویابین اور موٹرسائیکل جیسے اہم زرعی اور صنعتی شعبے متاثر ہو سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں، دیگر زرعی مصنوعات جیسے بادام، اخروٹ اور تازہ پھل بھی ان اشیاء میں شامل ہیں جن پر جوابی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یورپی اسٹیل اور ایلومینیم پر پہلے ہی 25 فیصد ٹیکس عائد کیا جا چکا ہے، جبکہ گاڑیوں اور دیگر مصنوعات پر بھی اضافی ٹیکس کا نفاذ زیر غور ہے۔ یورپی یونین اس کا مؤثر جواب تیار کر رہی ہے۔

فرانس کے وزیر فرانسوا بیرو نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے تجارتی میدان میں ایسی پالیسیوں کا آغاز کر دیا ہے جو نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ عالمی تجارتی توازن کو بھی بُری طرح متاثر کر سکتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "امریکی صدر کی جانب سے عالمی تجارتی جنگ کا اچانک آغاز دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے ایک خطرناک پیغام ہے، جس کے اثرات طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔"

Watch Live Public News