ویب ڈیسک: ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اگر انسان تیز رفتاری سے چلے تو دل کی بے ترتیب دھڑکن جیسے مسائل کے خطرات میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔
دی گارڈین پر شائع رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق، معروف جریدے BMJ Heart میں شائع ہوئی، جو کہ یو کے بایوبینک کے 4 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔ ان افراد نے اپنی چہل قدمی کی رفتار کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں، جن میں سے تقریباً 82 ہزار افراد نے مختلف رفتاروں پر چلنے کے وقت کا بھی ریکارڈ دیا۔
تحقیق میں چلنے کی رفتار کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا:
سست رفتار: 3 میل فی گھنٹہ سے کم
درمیانی رفتار: 3 سے 4 میل فی گھنٹہ
تیز رفتار: 4 میل فی گھنٹہ سے زیادہ
13 سال تک ان افراد کی نگرانی کے دوران، 36,574 افراد (یعنی 9%) کو دل کی دھڑکن میں کسی نہ کسی قسم کی خرابی کا سامنا ہوا۔
مطالعے سے معلوم ہوا کہ درمیانی یا تیز رفتار سے چلنے والے افراد میں دل کی دھڑکن کی خرابی کے خطرے میں بالترتیب 35% اور 43% کمی دیکھی گئی، جبکہ سست رفتاری سے چلنے والوں میں خطرہ زیادہ تھا۔
یہ تحقیق بتاتی ہے کہ تیز چلنے سے موٹاپے، بلڈ شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور سوزش جیسے عوامل میں بھی کمی آتی ہے، جو دل کی بیماریوں کی اہم وجوہات ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تحقیق مشاہداتی (observational) تھی، اس لیے حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تیز چلنا براہِ راست دل کی دھڑکن کو بہتر کرتا ہے۔
شرکاء کی اکثریت سفید فام، درمیانی عمر کے افراد پر مشتمل تھی، اس لیے نتائج دیگر قومیتوں یا عمر کے گروپس پر لاگو نہیں ہو سکتے۔
اس حوالے سے یونیورسٹی آف گلاسگو کی پروفیسر جل پیل نے کہا کہ “یہ تحقیق پہلی بار یہ ظاہر کرتی ہے کہ تیز چلنے سے میٹابولک اور سوزش سے متعلق عوامل کم ہوتے ہیں، جو دل کی دھڑکن میں خرابی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔”