(ویب ڈیسک) بیلجیم نے برطانیہ سے اسرائیل بھیجے جانے والے فوجی سامان کی دو کھیپیں ضبط کر لیں، جبکہ اس نے ایسے طیاروں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے جو اسرائیل کے لیے فوجی سازوسامان لے کر اس کی فضائی حدود یا ہوائی اڈوں کو استعمال کریں۔
گزشتہ ماہ برطانوی خبر رساں ویب سائٹ ڈی کلاسیفائیڈ ، بیلجین این جی او ویریڈیسیکٹی ، آئرش ویب سائٹ دی ڈیچ اور فلسطینی یوتھ موومنٹ نے برسلز حکام کو ایک کھیپ کے بارے میں آگاہ کیا جو برطانیہ سے اسرائیل جا رہی تھی اور لیژ ایئرپورٹ کے ذریعے گزرنے والی تھی۔
یہ سامان 23 مارچ کو برطانیہ سے روانہ ہوا اور 24 مارچ کو بیلجیم کے لیژ ایئرپورٹ پر ضبط کر لیا گیا۔
ایک ماہر انجینئر نے اس کی جانچ پڑتال کی جس میں "فائر کنٹرول سسٹمز اور فوجی طیاروں کے اسپیئر پارٹس" پائے گئے، جنہیں درست طریقے سے ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔
بیلجین حکام نے اس معاملے پر فوجداری تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم انہوں نے شکایت میں شامل کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے۔
جنوبی بیلجیم کی والون علاقائی حکومت نے ایک کمپنی کا نام موگ (Moog) بتایا، جو ایک امریکی ایرو اسپیس کمپنی ہے اور برطانیہ میں اس کے کارخانے موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، دسمبر میں بھی اسی کمپنی کے وولورہیمپٹن فیکٹری سے اسرائیل کو سامان بیلجیم کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔
موگایسی مشینری تیار کرتی ہے جو اسرائیلی پائلٹس کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے M-346 طیارے میں لگائی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پرزے برطانیہ سے ایک "اوپن انفرادی برآمدی لائسنس" کے تحت بھیجے گئے اور انہیں فوجی سامان کے بجائے ہوابازی کے عام پرزہ جات کے طور پر ظاہر کیا گیا۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ کم از کم 17 کھیپیں برطانیہ سے لیژ ایئرپورٹ کے ذریعے اسرائیل بھیجی جا چکی ہیں۔
مزید یہ کہ ایک فریڈم آف انفارمیشن درخواست سے پتہ چلا کہ برطانوی دفتر خارجہ کے پاس اس حوالے سے بیلجیم کے ساتھ کسی بھی قسم کی خط و کتابت کا ریکارڈ موجود نہیں۔
ستمبر 2024 میں برطانیہ نے اسرائیل کو دیے گئے 350 اسلحہ برآمدی لائسنسز میں سے 30 کو معطل کر دیا تھا، اس خدشے کے پیش نظر کہ یہ غزہ میں بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی میں استعمال ہو سکتے ہیں۔
برطانوی محکمہ تجارت و کاروبار نے کہا "ہم نے اسرائیل کے لیے ایسے تمام آلات کے لائسنس معطل کر دیے ہیں جو غزہ میں فوجی کارروائیوں میں استعمال ہو سکتے ہیں، سوائے F-35 پروگرام سے متعلق خصوصی اقدامات کے۔
کنٹرول شدہ سامان کی برآمد سخت لائسنسنگ کے تحت ہوتی ہے، اور بغیر لائسنس برآمد کرنا جرم ہے۔"
والون حکومت کے ترجمان نے کہا"ہماری نظر میں ان اشیاء کے لیے ٹرانزٹ لائسنس ضروری تھا… ہم نے اپنے وکلا سے رابطہ کر لیا ہے اور قانون پر عملدرآمد کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔"
ایک اور بیلجین حکومتی ترجمان نے کہا"کوئی ٹرانزٹ لائسنس کی درخواست نہیں دی گئی، اور اگر دی جاتی تو اسے مسترد کر دیا جاتا۔"