(ویب ڈیسک)اسرائیلی افواج نے پیر کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے جینین پناہ گزین کیمپ پر جاری حملے کے دوران درجنوں فلسطینی خواتین کے ہاتھوں پر نمبر درج کیے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق فوجیوں نے تقریباً 120 خواتین کو سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت اپنے گھروں کا جائزہ لینے اور کچھ سامان نکالنے کے لیے محدود وقت کے لیے کیمپ میں داخل ہونے کی اجازت دی۔
یہ خواتین اُن تقریباً 40,000 فلسطینیوں میں شامل ہیں جنہیں جنوری 2025 میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد جینین اور شمالی مغربی کنارے کے دیگر کیمپوں سے زبردستی بے دخل کیا گیا تھا۔
اس کارروائی کے نتیجے میں کیمپ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے، جبکہ کئی علاقے اب بھی ناقابلِ رسائی ہیں اور وہاں مستقل طور پر فوج تعینات ہے۔
خواتین کو دو گھنٹے سے بھی کم وقت کے لیے کیمپ میں داخل ہونے دیا گیا، جس کا بڑا حصہ تلاشی، انتظار اور سخت نگرانی میں طے شدہ راستوں پر چلنے میں گزرا۔
داخلے سے پہلے تلاشی کے دوران فوجیوں نے خواتین کے ہاتھوں پر نمبر اور حروف لکھے تاکہ انہیں درجہ بندی کیا جا سکے۔
ام فادی وہدان نے بتایا کہ “انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر ہمارے محلّوں کے مطابق نمبر لکھے،” ۔
ان کے مطابق، خواتین صبح کے وقت کیمپ کے دروازے پر پہنچیں، مگر انہیں طویل تلاشی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ فوجیوں نے انہیں تین گھنٹے دھوپ میں کھڑا رکھا اور محلّوں کی نشاندہی جان بوجھ کر تبدیل کرتے رہے تاکہ مزید تاخیر ہو۔
’کاش میں نہ جاتی‘
کیمپ کا منظر دیکھ کر خواتین شدید صدمے کا شکار ہوئیں، کیونکہ تباہی اس قدر تھی کہ وہ اپنے گھر اور محلّے پہچان نہ سکیں۔ گلیاں ملبے کا ڈھیر بن چکی تھیں اور گندا پانی جگہ جگہ جمع تھا۔
وہدان نے بتایا “میں اپنے گھر پہنچی تو دیکھا کہ پانچ منزلہ عمارت مکمل جل چکی تھی۔ کاش میں نہ جاتی۔”
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے گھر میں کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کرتی رہیں، جہاں کبھی 30 سے زیادہ افراد رہتے تھے، مگر صرف راکھ ملی۔
“مجھے کچھ نہیں ملا، سب کچھ جل چکا تھا۔ میں خالی ہاتھ لوٹ آئی، اور کاش میں نہ جاتی۔ اس دورے نے ہمارے زخم دوبارہ تازہ کر دیے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پورا کیمپ بدل چکا ہے۔ گلیاں گندگی سے بھری ہیں، کئی گھروں کو فوجی چوکیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اور درجنوں مکانات یا تو مسمار کر دیے گئے ہیں یا جلا دیے گئے ہیں۔
یہ دورہ ان کے لیے پرانے زخم بھی تازہ کر گیا، کیونکہ ان کا بیٹا سعید اگست 2024 میں ایک حملے میں شہید کردیا گیا تھا۔ ان کا ایک بیٹا سات سال سے اسرائیلی حراست میں ہے جبکہ دوسرا فلسطینی اتھارٹی کے پاس قید ہے۔
یہ دوسرا موقع تھا جب اسرائیلی فوج نے اس نوعیت کا دورہ اجازت دی۔ اس سے پہلے 8 جولائی 2025 کو 25 خواتین کو داخل ہونے دیا گیا تھا۔
برہنہ تلاشی:
60 سالہ خاتون ابیر الصباغ کو بھی اچانک اطلاع ملی کہ وہ داخل ہونے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ وہ اپنی نند کے ساتھ فوراً کیمپ پہنچ گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین فوجیوں نے تمام خواتین کی برہنہ تلاشی لی، جسے انہوں نے انتہائی توہین آمیز اور ذہنی اذیت کا باعث قرار دیا۔ “جب مجھے معلوم ہوا کہ برہنہ تلاشی ہوگی تو میں نے کہا کہ میں واپس جانا چاہتی ہوں، مگر فوجی نے کہا کہ اگر تم واپس بھی جاؤ تو بھی تلاشی ہوگی۔
انہوں نے بتایایہ انتہائی شرمناک تھا، خاص طور پر اس لیے کہ ہمارے ساتھ نوجوان لڑکیاں بھی تھیں اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کہیں خفیہ کیمرے تو نہیں لگے ہوئے۔”
یہ تلاشی کیمپ کے داخلی دروازے کے قریب ایک گھر میں لی گئی، جسے فوج نے قبضے میں لے کر فوجی چوکی بنا دیا تھا۔
الصباغ کا گھر 2023 میں بمباری میں تباہ ہو گیا تھا، جس میں تین افراد شہید ہوئے تھے۔وہ اپنی بوڑھی والدہ کے ساتھ کیمپ چھوڑنے پر مجبور ہوئیں، جو بعد میں جلاوطنی میں ہی انتقال کر گئیں۔
جب وہ اپنے محلّے کے قریب پہنچیں تو انہوں نے بڑی تعداد میں فوجیوں اور گاڑیوں کو دیکھا، خوفزدہ ہوئیں اور واپس لوٹ گئیں۔
انہوں نے کہا “کوئی ایک گھر بھی ایسا نہیں بچا جو رہنے کے قابل ہو۔”