ٹرمپ اور پیوٹن ملاقات میں جنگ بندی کے حوالے سے اہم پیشرفت

ٹرمپ اور پیوٹن ملاقات میں جنگ بندی کے حوالے سے اہم پیشرفت
کیپشن: ٹرمپ اور پیوٹن ملاقات میں جنگ بندی کے حوالے سے اہم پیشرفت

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن کے درمیان الاسکا میں اہم ملاقات ہوئی ، جس میں یوکرین پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات ساڑھے ڈھائی گھنٹے جاری رہی۔ لیکن جنگ بندی کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر نے کہا کہ ملاقات مثبت اور تعمیری رہی۔ انہوں نے روس پر مزید پابندیاں لگانے سے انکار کیا۔ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ جنگ بندی پر مکمل اتفاق نہیں ہوسکا مگر امید ہے کہ معاہدہ جلد ممکن ہو جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پیوٹن اور زیلنسکی کے درمیان جلد ملاقات متوقع ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ سوچنا غلط تھا کہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔ یہ مشکل تنازعہ ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ یوکرینی صدر اور نیٹو رہنماؤں سے ٹیلی فون پر بات کریں گے۔ اب امن معاہدے کی ذمہ داری یوکرینی صدر زیلنسکی پر ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پیوٹن کی ماسکو میں اگلی ملاقات کی دعوت بھی قبول کر لی۔

روسی صدر نے بھی ملاقات کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کیلئے جنگ کی بنیادی وجوہات ختم کرنا ہوں گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر 2022 میں ٹرمپ صدر ہوتے تو جنگ شروع ہی نہ ہوتی۔

دوسری جانب ، یوکرینی صدر نے ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات ضروری ہے مگر اس میں یوکرین کی شمولیت لازمی ہے۔ صدر زیلنسکی نے کہا کہ دیر پا امن اور مؤثر فیصلوں کیلئے یوکرین کو مذاکرات میں شامل کیا جائے۔

Watch Live Public News