کیا نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹک ٹاک کو بچا لیں گے؟

Trump mulls executive order to ‘save TikTok’ – media
کیپشن: Trump mulls executive order to ‘save TikTok’ – media
سورس: google

  ویب ڈیسک :نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کو حلف اٹھانے کے فوری بعد ایگزیکٹو آرڈر جاری کرکے ’’ ٹک ٹاک’’ کو نئی زندگی دے سکتے ہیں ، امریکی ذرائع ابلاغ کا دعوی۔

  واشنگٹن پوسٹ اور سی این این  کی رپورٹ کے مطابق، نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کو عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ ٹِک ٹاک کو بچانے کی کوشش کی جا سکے 

ٹک ٹاک امریکا میں بند کرنے کی تیاریاں

 یادرہے   سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک  کے لیے اپنے امریکی اثاثے فروخت کرنے یا ملک سے پابندی عائد کرنے کی آخری تاریخ قریب آ رہی ہے۔  اور ٹک ٹاک بظاہر امریکا میں اپنی ایپ کو بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ٹک ٹاک اپنے امریکی صارفین کو ایپ پر موجود اپنا تمام ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی ذاتی چیزوں کا ریکارڈ محفوظ کر سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ہفتے ایپ کی تمام سروسز معمول کے مطابق جاری رہیں گی تاکہ پابندی کا حکم تبدیل ہونے کی صورت میں ٹک ٹاک اپنے نمام آپریشنز کو کم سے کم وقت میں معمول پر لا سکے۔

ٹک ٹاک کا منصوبہ یہ ہے کہ جب لوگ ایپ کھولیں گے تو انہیں کلک کرنے کے لیے ایک پیغام نظر آئے گا۔ جب وہ اس پر کلک کریں گے تو ان کے سامنے ایک اور ویب سائٹ کھل جائے گا جس پر پابندی کے بارے میں معلومات درج ہوں گی۔

نئی خریداری تک ٹک ٹاک کو کام کرنیکی اجازت؟

سی این این نے دعوی کیا ہے کہ ممکنہ ایگزیکٹو آرڈر ممکنہ خریداری معاہدے  کے لئے 170 ملین امریکی صارفین کو ایک مخصوص مدت تک ایپ کو استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹک ٹاک کا نیا مالک کون ؟

پابندی کے نتیجے میں امریکی فوری طور پر TikTok تک رسائی سے محروم نہیں ہوں گے۔ اس کے بجائے، یہ ایپ اسٹورز سے نئے ڈاؤن لوڈز کو روک دے گا، اور صارفین کو ایپ اپ ڈیٹس حاصل کرنے سے بھی روک دے گا، جو وقت کے ساتھ ساتھ ایپ کو استعمال کرنا مشکل بنا سکتا ہے۔

 یادرہےصدر جو بائیڈن نے گزشتہ سال اپریل میں ایک حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس میں بائٹ ڈانس سے کہا گیا تھا کہ وہ 19 اپریل 2025 تک امریکہ میں اپنے تمام اثاثے فروخت کر دے یا پھر ملک بھر میں اپنے پر پابندی کا سامنا کرے۔

ٹک ٹاک اور بائٹ ڈانس نے سپریم کورٹ میں اپنی اپیل میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پابندی کا حکم امریکی آئین میں آزادی اظہار سے متعلق پہلی ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔

ایگزیکٹو آرڈر جادوئی دستاویز نہیں

واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ ایک ایسے حکم پر غور کر رہے ہیں جو 60-90 دنوں کے لیے پابندی کو روک دے گا۔ تاہم، یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے لاء کے پروفیسر ایلن روزینشٹین  کا کہنا تھا   ایگزیکٹو آرڈر ٹرمپ کے ارادوں کو واضح کر دے گا، لیکن یہ کوئی "جادوئی" دستاویز نہیں ہے جو پابندی کو روک دے گی۔

کروڑوں ڈالر کمانے والے کونٹینٹ کریئیٹرز خوف کا شکار

مشہور TikTok تخلیق کاروں نے اپنی روزی روٹی کے لیے خوف کا اظہار کیا ہے کیونکہ آنے والی پابندی  ان کی کمائی کے ذرائع مسدود کر دے گی۔ 

سیراکیوز یونیورسٹی میں سوشل میڈیا کمیونیکیشن کی پروفیسر جینیفر گریگیل کاکہنا ہے کہ صدرٹرمپ اس سب میں ہیرو کے طور پر سامنے آسکتے ہیں۔

 ٹرمپ کے آنے والے قومی سلامتی کے مشیرفلوریڈا  سے ریپبلکن مائیک والٹز نے فاکس نیوز  کو بتایا ہے کہ انتظامیہ سیکورٹی خدشات کو دور کرتے ہوئے ایپ کو محفوظ کر سکے گی۔

والٹز نے کہا، "ٹک ٹوک خود ایک لاجواب پلیٹ فارم ہے۔ "ہم اسے محفوظ کرنے لیکن لوگوں کے ڈیٹا کی حفاظت کا راستہ تلاش کرنے جا رہے ہیں، اور یہی وہ معاہدہ ہے جو ہمارے سامنے ہوگا ،

سینٹ میں ایک سوال کے جواب میں  ٹرمپ کی نامزد کردہ اٹارنی جنرل پام بوندی نے کہا کہ وہ عدالت میں  زیر التواء کیسز پر بحث نہیں کر سکتیں۔ 

 جیمز اے لیوس جو سنٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹر نیشنل سٹڈیز میں  ٹیکنالوجی پالیسی کے ماہر ہیں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے اسے ڈرامہ پسند ہے  لیکن اپنی سیاسی مقبولیت کی قیمت پر نہیں۔۔ اگر  صدر ٹرمپ  TikTok کو بچانے کے لیے کوئی چپس استعمال نہیں کریں گے۔ 

Watch Live Public News