مستفیض الرحمان کا کے کے آر سے ریلیز پر قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ

مستفیض الرحمان کا کے کے آر سے ریلیز پر قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ
کیپشن: مستفیض الرحمان کا کے کے آر سے ریلیز پر قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ

ویب ڈیسک: بنگلہ دیش کے مایہ ناز فاسٹ بولر مستفیض الرحمان نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز ( کے کے آر) کی جانب سے غیر متوقع طور پر ریلیز کیے جانے کے معاملے پر کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ انہیں اس فیصلے کے خلاف باضابطہ احتجاج یا قانونی راستہ اختیار کرنے کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم مستفیض الرحمان نے معاملے کو مزید آگے نہ بڑھانے کو ترجیح دی۔

کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش (سی ڈبلیو اے بی) کے صدر محمد متھن کے مطابق عالمی سطح پر کھلاڑیوں کی نمائندہ تنظیم ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن (ڈبلیو سی اے) بھی اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے تھی اور کے کے آر کے فیصلے کے خلاف کارروائی کے امکانات موجود تھے، کیونکہ مستفیض کو ٹیم سے نکالنے کی وجہ نہ تو کارکردگی تھی اور نہ ہی انجری۔

محمد متھن کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود مستفیض الرحمان نے ذاتی طور پر کسی بھی قانونی یا انتظامی تنازع میں پڑنے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد سی ڈبلیو اے بی نے بھی احتجاج کا ارادہ ترک کر دیا۔

واضح رہے کہ مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل 2026 کے لیے کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے 9 کروڑ 20 لاکھ بھارتی روپے میں منتخب کیا تھا، تاہم بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی ہدایت پر فرنچائز کو انہیں اسکواڈ سے نکالنا پڑا۔

اس فیصلے کے بعد مستفیض الرحمان آئی پی ایل 2026 میں معاہدہ حاصل کرنے والے واحد بنگلہ دیشی کھلاڑی بھی نہ رہے، جس کے نتیجے میں رواں سیزن میں کوئی بھی بنگلہ دیشی کرکٹر آئی پی ایل میں شرکت نہیں کرے گا۔

اس معاملے پر بنگلہ دیش میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں حکومت نے آئی پی ایل کی نشریات معطل کر دیں، جبکہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر آئی سی سی سے بھارت میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز کے مقامات تبدیل کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔

دوسری جانب کے کے آر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل یا ریلیز کرنے کے فیصلے کھیل کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، تاہم مستفیض الرحمان کے معاملے میں سامنے آنے والے حالات نے اس فیصلے کو متنازع بنا دیا۔ اس کے باوجود مستفیض الرحمان نے تحمل اور خاموشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

Watch Live Public News