ویب ڈیسک: برطانیہ کے سابق وزیر دفاع سر بین والیس نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے افغان شہریوں کی معلومات لیک ہونے کی رپورٹنگ روکنے کا جو فیصلہ کیا تھا، اس پر انہیں "کوئی شرمندگی نہیں"۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حقائق چھپانے کے لیے نہیں بلکہ متاثرہ افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ بات انہوں نے ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع ایک مضمون میں لکھی، جس میں انہوں نے 2022 میں ہونے والے بڑے ڈیٹا لیک کے پس منظر اور حکومتی ردعمل پر روشنی ڈالی۔
19 ہزار افغانوں کی معلومات لیک، طالبان کے خطرے کا اندیشہ
فروری 2022 میں تقریباً 19 ہزار افغان شہریوں کی ذاتی معلومات لیک ہو گئیں، جنہوں نے افغان ریلوکیشن اینڈ اسسٹنس پالیسی (ARAP) کے تحت برطانیہ منتقل ہونے کی درخواست دی تھی۔
یہ معلومات نام، رابطہ تفصیلات اور خاندانی معلومات پر مشتمل تھیں، جن کے ذریعے طالبان کے ہاتھوں ان افراد کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔
اس لیک کی معلومات اگست 2023 میں سامنے آئیں، جب کچھ ڈیٹا فیس بک پر پوسٹ کیا گیا۔
سر بین والیس کا کہنا تھا کہ"میری پہلی ترجیح ان تمام افراد کی حفاظت تھی جو خطرے میں پڑ سکتے تھے۔ بعض لوگ شاید اختلاف کریں، لیکن تصور کریں اگر طالبان کو اس فہرست کے بارے میں پتہ چل جاتا تو کیا ہوتا؟"
نئی اسکیم اور لاکھوں پاؤنڈ کا خرچ
متاثرہ افراد کے تحفظ کے لیے حکومت نے اپریل 2024 میں ایک نئی اسکیم متعارف کروائی جسے " افغانستان رسپانس روٹ" کہا جاتا ہے۔ اب تک 4,500 افغان شہری برطانیہ آ چکے ہیں، جبکہ اس اسکیم پر 400 ملین پاؤنڈ خرچ ہو چکے ہیں اور مکمل لاگت 850 ملین پاؤنڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد حقیقت منظرعام پر
یہ تمام تفصیلات اسی ہفتے سامنے آئیں جب ہائی کورٹ کے ایک جج نے اس معاملے پر عائد رپورٹنگ پابندی ہٹانے کا حکم جاری کیا۔ اس کے بعد ہی عوام کو علم ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والا واقعہ کتنی دیر تک چھپایا گیا۔
افغانی خاندانوں میں خوف کی لہر
بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں ایک افغان مترجم کی بیٹی نے بتایا کہ ان کی پوری فیملی گھبراہٹ کا شکار ہو گئی۔ ان کی نانی جو اب بھی افغانستان میں موجود ہیں، انتہائی غیرمحفوظ صورتحال سے دوچار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "کسی کو نہیں معلوم یہ ڈیٹا کہاں گیا، یہ طالبان کے ہاتھ بھی لگ سکتا ہے۔
سرکاری ردعمل اور معذرت
نئے برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے پارلیمان میں اس واقعے پر حکومت کی طرف سے مخلصانہ معذرت پیش کی اور کہا کہ ذمے دار افسر اب وہی کام نہیں کر رہا۔
کنزرویٹو پارٹی کی لیڈر کیمی بیڈنوک نے بھی اپنی پارٹی کی جانب سے معافی مانگی۔
سابق کنزرویٹو رہنما سر ایئن ڈنکن اسمتھ نے واقعے پر پارلیمنٹ کو اندھیرے میں رکھنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اتنے اہم مسئلے پر پارلیمان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کو سچ بتانا ہماری ذمے داری ہے۔"