ویب ڈیسک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی قریبی سیاسی اتحادی، ری پبلکن کانگریس رکن مارجوری ٹیلر گرین سے تعلقات منقطع کرتے ہوئے انہیں ’غدار‘ اور ’انتہائی بائیں بازو کی طرف جھکاؤ‘ کا الزام لگایا۔
ہفتے کے روز ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ گرین کی حمایت واپس لے رہے ہیں اور انہیں ’ری پبلکن پارٹی کے لیے شرمندگی‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ حالیہ چند ہفتوں میں گرین نے مسلسل شکایات کیں حالانکہ ان کی حکومت نے ریکارڈ کامیابیاں حاصل کیں۔
ٹرمپ نے اس تنازعے کی ابتدا اس وقت کی جب انہوں نے گرین کو جارجیا میں مقبولیت کے حوالے سے ایک سروے بھیجا، جس میں ان کی مقبولیت صرف 12 فیصد ظاہر ہوئی تھی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد گرین نے ’انتہائی بائیں بازو‘ کی سمت اختیار کر لی۔
دوسری طرف، مارجوری ٹیلر گرین نے سوشل میڈیا پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے ان کی حمایت اس لیے واپس لی کیونکہ وہ جفری ایپ سٹین کیس کی فائلیں پبلک کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقف اپنانا انہیں اس مقام تک لے آیا۔
گرین نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ ان کی مخالفت اس لیے کر رہے ہیں تاکہ دوسرے ری پبلکن ارکان کو ایپ سٹین کی فائلوں کے حوالے سے ووٹنگ میں ’ڈرایا‘ جا سکے۔ اس دوران ایوان نمائندگان کی اوورسائٹ کمیٹی نے تقریباً 20 ہزار دستاویزات جاری کیں، اور ڈیموکریٹس نے ایک ای میل شیئر کی، جس میں ایپ سٹین کے حوالے سے ٹرمپ کے تعلقات پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
صدر ٹرمپ نے اس نئی معلومات کے بعد ایپ سٹین کے ڈیموکریٹس خصوصاً بل کلنٹن کے ساتھ تعلقات کی تحقیقات کا حکم دیا اور مخالفین پر الزام عائد کیا کہ وہ اسے سیاسی حربے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔