ویب ڈیسک: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے میں پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب نظر آ رہی ہیں، کیونکہ اس راہ میں حائل دو اہم رکاوٹیں ختم ہو گئی ہیں۔ پہلی لبنان میں جنگ بندی اور دوسری ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان۔
اس پیش رفت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ طور پر پاکستان کے دورے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ موجودہ دورہ تاریخی لحاظ سے اہم ہوگا، کیونکہ جارج ڈبلیو بش کے بعد صرف چند امریکی صدور نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔
پاکستان میں امریکی صدور کے تاریخی دورے:
1. دسمبر 1959 – آئزن ہاور: سرد جنگ کے دوران، پاکستان اور امریکا کے اسٹریٹیجک تعلقات مستحکم ہوئے۔
2. جولائی 1969 – رچرڈ نکسن: امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارتکاری میں پاکستان نے پل کا کردار ادا کیا۔
3. جنوری 1978 – جمی کارٹر: پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور انسانی حقوق پر بات چیت، تعلقات میں پیچیدہ توازن کی عکاسی۔
4. مارچ 2000 – بل کلنٹن: چند گھنٹوں کا مختصر مگر اہم دورہ، جمہوریت، دہشتگردی اور جنوبی ایشیا میں امن پر زور۔
5. اپریل 2026 – جے ڈی وینس: ایران امریکا مذاکرات کے تناظر میں نائب صدر کا دورہ۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں صدر ٹرمپ کے دورے کے امکانات روشن ہیں، جو پاکستان کی خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کا اعتراف بھی ہوگا۔