ویب ڈیسک :(جواد ملک ) پہلی بار پارلیمنٹ میں پہنچنے والی گاندھی خاندان کی رکن پارلیمنٹ پریانکا گاندھی نے ’’ بیگ پالٹیکس’’ سے مودی حکومت کو ہلا کررکھ دیا ۔ بی جے پی تلملانے کے سوا کچھ نہ کرسکی۔
تفصیلات کے مطابق برصغیر پاک وہند کی پہلی سیاسی جماعت کانگریس کی جنرل سیکرٹری اور وایناڈ سے پہلی دفعہ ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے والی پریانکا گاندھی نے ’’سیاسی بابوں’’ کے دانت کھٹے کردئیے۔جب سے وہ لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئی ہیں، لوگوں کی نظریں ان پر ٹکی ہیں اور کسی بھی سیاست دان کے لئے یہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔
پہلے ان کی تقریر نے لوگوں کی توجہ حاصل کی اور اب وہ اپنے ہینڈ بیگ کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔
کل پرینکا گاندھی ایک ہینڈ بیگ لے کر پارلیمنٹ پہنچی تھی جس پر فلسطین لکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد بی جے پی کے گرو گھنٹال چھریاں خنجر لے کر ان پر ٹوٹ پڑے تاہم آج پھر وہ نئے بیگ کے ساتھ پارلیمنٹ پہنچیں۔ اس بیگ پر بنگلہ دیش میں ہونے والے اقلیتی برادری کے خلاف تشدد کا ذکر تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرینکا گاندھی نے آج کے بیگ سر درج پیغام سے بی جے پی کو جواب دیا ہے۔اس کے بعد ایک بار پھر پریانکا گاندھی کے ہینڈ بیگ کی بحث شروع ہوگئی۔
پریانکا گاندھی، اپنے کندھے پر ‘بنگلہ دیش’ کے ساتھ ایک بیگ اٹھائے ہوئے، منگل کو پارلیمنٹ کے احاطے میں نظر آئیں۔ وہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور عیسائیوں پر مظالم کے خلاف کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ کے احتجاج کی قیادت کررہی تھیں۔
یادرہے بی جے پی نے اس بیگ کو لے کر پرینکا گاندھی کو نشانہ بنایا اور ان پر ‘مسلمانوں کی خوشامد’ کی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ پیر کو ایک ویڈیو میں، ہینڈ بینگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں، انہوں نے کہا، “میں اس معاملے پر پہلے بھی کئی بار اپنے خیالات کا اظہار کر چکی ہوں۔ کون فیصلہ کرے گا کہ مجھے اب کون سے کپڑے پہننے ہیں؟ یہ پدرانہ نظام ہے کہ آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ عورت کو کیا لباس پہننا چاہیے۔‘‘
پرینکا گاندھی، کیرالہ کے وایناڈ سے حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد پہلی بار پارلیمنٹ کے اجلاس میں حصہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے کل لوک سبھا کے اجلاس کے دوران بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔