ویب ڈیسک: امریکی الیکٹرک کار ساز کمپنی ٹیسلا نے چین میں اپنی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کار کے ماڈل وائے کے نئے ورژن کی نقاب کشائی کی ہے۔ نیا ماڈل وائے مارچ میں چین اور آس پاس کے ممالک میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا اور بتدریج سال کے آخر تک یورپ اور شمالی امریکہ میں موجودہ ماڈل کی جگہ لے لے گا۔
اگرچہ کار کے ایکسٹرئیر میں محدود تبدیلیاں ہوئی ہیں لیکن کم تبدیلیوں کے باوجود نئے ماڈل میں اس کی شکل مکمل بدل چکی ہے،اس گاڑی کا اگلہ حصہ خود کار ٹیسلا ٹیکسی کی طرح کا ہے۔ دن میں چلنے والی کار کی لائٹس ایل ای ڈی کی ایک باریک پٹی ہے جو پورے فرنٹ پر موجود ہے۔

کار کا اگلا حصہ خود کار ڈرائیونگ والی ٹیسلا ٹیکسی سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس گاڑی میں دن کے وقت چلنے والی لائٹس ایل ای ڈی کی ایک بریک پٹی ہیں جو پورے فرنٹ پر موجود ہے۔ ٹرنک کے ڈھکن کے نیچے بھی ایک لائٹ ہے جو کار کے پچھلے حصے اور ٹیسلا لوگو پر سرخ روشنی پھینکتی ہے۔

اس ماڈل میں گاڑی کے کیبن کو مکمل طور پر ری ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی بلڈ کوالٹی بہتر کرتے ہوئے اس کے اندر کے شور کو کم کیا گیا ہے۔ اس میں پچھلی سیٹوں کے لیے انٹرٹینمنٹ سسٹم بھی لگایا گیا ہے۔ ریکلائننگ سیٹیں رکھی گئی ہے اور بڑا ڈیش بورڈ ڈسپلے دیا گیا ہے۔
ٹیسلا کا کہنا ہے کہ ماڈل وائے ایک چارج پر 719 کلومیٹر فاصلہ طے کر سکتی ہے۔ اور یہ 4.3 سکینڈز میں صفر سے 100 کلومیٹر کی رفتار پکڑ سکتی ہے۔

ٹیسلا کی طرف سے پہلی مرتبہ چین میں ایک نیا ماڈل متعارف کروایا گیا ہے۔ چین کی مقامی الیکٹرک کاروں کی صنعت کے باعث ٹیسلا کے لیے مقامی مارکیٹ میں رہنا کافی مشکل اور مسابقتی ہے۔
ایچ ایس بی سی کی تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ برس کی آخری سہ ماہی میں چینی مارکیٹ میں کاروں کے تقریباً 90 ماڈلز متعارف کروائے گئے تھے اور ان میں سے 90 فیصد الیکٹرک کاریں تھیں۔
چین میں ماڈل وائے کی سستی ترین کار کی قیمت 36 ہزار امریکی ڈالرز یعنی تقریباً ایک کروڑ پاکستانی روپے ہے۔