شدت پسندی کی نئی لہر،قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس کل طلب

شدت پسندی کی نئی لہر،قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس کل طلب
کیپشن: شدت پسندی کی نئی لہر،قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس کل طلب

ویب ڈیسک: پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے ملک میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات، خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حالیہ حملوں کے تناظر میں وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر منگل 18 مارچ کو پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا ان کیمرا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے وقت میں تبدیلی کردی گئی۔ترجمان قومی اسمبلی کا کہناہے کہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منگل کی صبح 11 بجے منعقد ہوگا،پاکستان میں امن وامان کی صورتحال اور دہشت گردی کے واقعات میں تیزی سے متعلق حکومت نے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس 18 مارچ بروز منگل طلب کیا ہے۔یہ اجلاس پہلے دوپہر ڈیڑھ بجے بلایا گیا تھا جس میں وقت کی تبدیلی کردی گئی ہے۔ 

ترجمان قومی اسمبلی ظفر سلطان  کا کہناہے کہ پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس صبح 11 بجے منعقد ہوگا،پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سول اور عسکری قیادت شرکت کرے گی،انٹیلی جنس اداروں کے سربراہ پارلیمانی رہنماؤں کو ملکی داخلی اور خارجی امور پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔

یہ اہم اجلاس بلوچستان کے ضلع بولان میں جعفر ایکسپریس، نوشکی میں سکیورٹی فورسز کے قافلے اور خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں جنڈولہ کے مقام پر ایف سی چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملوں جیسے واقعات کے تناظر میں طلب کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا اور بلوچستان حالیہ دنوں میں شدت پسندی کا سب سے زیادہ نشانہ بنے ہیں۔ گلوبل ٹیررزم انڈیکس 2025 کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان میں ہونے والے 96 فیصد سے زائد شدت پسند حملے اور اموات انہی دو صوبوں میں ہوئی ہیں۔

Watch Live Public News