ویب ڈیسک: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سیکیورٹی ایجنسی چیف شن بیٹ کو ہٹانے کا اعلان کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی ادارے کے سربراہ نےفیصلہ ماننے سے انکار کردیا ہے۔انہوں نے اس فیصلے کی وجہ "جنگ کے دوران جاری عدم اعتماد" کو قرار دیا ہے۔
دوسری جانب تل ابیب میں نیتن یاہو کے خلاف احتجاج جاری ہے۔مظاہرین کیجانب سےنیتن یاہو کےمستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔نتن یاہو نے اپنے ایک ریکارڈ ویڈیو بیان میں رونن بار کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کی وجہ اعتماد کے فقدان کو قرار دیا۔
اس فیصلے کے جواب میں شین بیٹ کے سربراہ رونن بار نے کہا کہ ’وزیراعظم کی ذاتی وفاداریاں شین بیٹ قانون اور مفاد عامہ کے منافی ہیں۔‘ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایجنسی کی تحقیقات میں 7 اکتوبر کو اندرونی ناکامیوں کا انکشاف ہوا، لیکن تحقیقات میں حکومت اور وزیر اعظم کی پالیسیوں میں مسائل کا بھی انکشاف ہوا۔‘
اٹارنی جنرل گالی بہارو میارا نے وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ ’شن بیٹ کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کی کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس سے قبل آپ کے فیصلے کے حوالے سے پیش کیے جانے والے حقائق اور قانونی بنیادوں اور جواز کا مکمل جائزہ لیا جانا ضروری ہے، نیز اس وقت اس طرح کے فیصلے سے مفادات کے ٹکراؤ کا خدشہ ہے۔
۔