ویب ڈیسک: دنیا بھر میں مسیحی افراد آج مذہبی تہوار "گڈ فرائی ڈے" منارہے ہیں۔لیکن اسرائیل میں اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں اورمسیحی برادری کو مذہبی رسومات منانےمیں مشکلات کاسامنا ہے۔
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز یروشلم کے چرچ آف سیپلچر میں گڈ فرائی ڈے کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ لیکن اس تقریب میں بہت کم مسیحی افراد نے شرکت کی۔
یادرہے کہ اسرائیلی متنازعہ علاقہ یروشلم یا القدس، یہودیوں،مسلمانوں اور عیسائیوں کیلئے مقدس ترین مقام کا درجہ رکھتا ہے۔
اسرائیل میں مقبوضہ علاقے مغربی کنارہ کے رہائشی فلسطینی عیسائیوں کیلیے یروشلم کا یہ چرچ کافی اہمیت کا حامل ہے او روہ سالہا سال سے یہاں ایسٹر اور گڈ فرائی ڈے کے موقع پر اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلیے آتے ہیں۔ تاہم اب اسرائیل کی جانب سے لگائی جانے والی سفری پابندیوں اور نقل و حرکت کے عمل کو مشکل بنانے کی وجہ سے فلسطینی عیسائیوں کیلئےسالانہ مذہبی رسومات میں شرکت کی روایت کو برقرار رکھنا ناممکن ہو چکا ہے۔ کیونکہ یروشلم سے باہر رہنے والے ہر فلسطینی کو شہر میں داخلے کیلیے فوجی اجازت درکار ہے۔
یا د رہے کہ ماضی میں مغربی کنارے کے عیسائی افراد کو یروشلم میں داخل ہونے کیلیے آسانی سے اجازت مل جاتی تھی۔ لیکن اکتوبر 2023 میں غزہ کے ساتھ جنگ کے بعد سے اسرائیلی حکام کی جانب سے یروشلم میں داخلے کیلیے اجازت ناموں کے حصول کو تقریبا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔
اس سال ایسٹر کے موقع پر اسرائیلی حکومت نے عیسائی زائرین کیلیے 6 ہزار اجازت نامے جاری کیے ہیں ، جبکہ مغربی کنارے میں آبادکار عیسائیوں کی تعداد لگ بھگ پچاس ہزار ہے۔
دوسری جانب مسیحی رہنماؤں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حقیقتا 4 ہزار اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں جو کہ ناکافی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ اجازت نامے بھی صرف چند مخصوص خاندانوں کو جاری کیے گئے ہیں۔
دی گارڈین کی رپورٹ میں مزید اس حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ اجازت نامے صرف ایک ہفتے کیلیے کارآمد ہو سکتے ہیں اور اس دوران بھی عیسائی برادری کو یروشلم میں رات گزارنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ لہٰذا انہیں اس دورانیے میں ی یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر متعدد چیک پوائنٹس سے گزرنا پڑے گا۔ مغربی کنارے اور یروشلم میں نقل و حرکت کیلیے ان چیک پوائنٹس سے روزانہ گزرنا ایک مشکل امر ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایسٹر اور گڈ فرائی ڈے کی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کو تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے۔
دوسری جانب دی گارڈین کے مطابق جن افراد کو یہ اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں ان میں سے بھی کئی افراد کو یروشلم داخلے سے منع کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے طیبہ گاؤں کے رہایشیوں نے دی گارڈین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انکے پاس پرمٹ ہونے کے باوجود انہیں یروشلم میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
گزشتہ چند سالوں سے جو افراد مذہبی رسومات میں شرکت کیلیے یروشلم پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ انہیں پولیس کی جانب سے تشدد اور زدوکوب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے مغربی کنارے کے رہائشی عیسائی افراد اب ایسٹر کی تقریبات میں شرکت کیلیے یروشلم جانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔
یروشلم میں عیسائی مذہبی تقریبات میں شرکت میں کمی کی وجہ بتاتے ہوئے سبیل نامی مسیحی تنظیم کے بانی کا مؤقف تھا کہ گزشتہ سال انکے کئی ساتھیوں کو مذہبی تقریبات میں شرکت کے دوران یروشلم میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ جبکہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے نقل و حرکت کیلیے سخت پالیسی اور عیسائی زائرین پر تشدد کے واقعات کے بعد بہت سے لوگ ہفتہ کے روز ہونے والی " مقدس آگ کی تقریب" میں شرکت سے گریزاں ہے۔
مسیحی افراد کی جانب سے اسرائیلی حکومت کے ان اقدامات کو ریاست کی طرف سے مذہبی آزادی پر قدغن اور ان پر غلبہ پانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔