(ویب ڈیسک ) ایپل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرے گا کیونکہ ان میں استعمال ہونے والی میموری چِپس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایپل کے سبکدوش ہونے والے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹِم کُک نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ قیمتوں میں اضافہ "ناگزیر" ہو چکا ہے کیونکہ میموری چِپس کی صورتحال "ناقابلِ برداشت" حد تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ قیمتیں کب بڑھائی جائیں گی یا کن مصنوعات پر اس کا اطلاق ہوگا۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا یہ اضافہ ستمبر میں متوقع آئی فون 18 کی قیمت پر اثر انداز ہوگا یا نہیں۔
میموری چِپس اسمارٹ فونز اور دیگر اسمارٹ آلات کا بنیادی جزو ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال نے ان کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
ٹِم کُک نے کہا "ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ہم پر منتقل کی جانے والی بھاری لاگت کو کم کریں، اور ہم نے اپنے صارفین کو ان اضافوں سے بچانے کی کوشش کی ہے، لیکن اب صورتحال ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا "سپلائی کم ہے جبکہ صارفین کی طلب زیادہ ہے، اور میموری چِپ بنانے والی کمپنیاں قیمتوں میں بڑے اضافے ہم تک منتقل کر رہی ہیں۔"
ٹم کُک، جو 15 سال تک ایپل کی قیادت کرنے کے بعد ستمبر میں جان ٹرنس کو عہدہ سونپ دیں گے، نے کہا کہ "ہمیں یقیناً میموری چِپس کی قیمتوں اور سپلائی کو صارفین کی مصنوعات کے لیے معقول سطح پر واپس آتے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔"
اکتوبر 2025 سے اب تک RAM کی قیمت، جو عموماً کمپیوٹر کے سستے ترین پرزوں میں شمار ہوتی ہے، دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
اے آئی کی بڑھتی ہوئی طلب کے علاوہ، ایران میں جاری جنگ نے بھی عالمی سطح پر ہیلیم گیس کی سپلائی متاثر کی ہے، جو سیمی کنڈکٹرز (چِپس) کی تیاری میں ایک اہم جزو ہے۔ اس کے نتیجے میں کمپیوٹر چِپس کی لاگت مزید بڑھ گئی ہے۔
تحقیقی ادارے او ایم ڈی آئی اے (Omdia) کے مطابق 2026 میں دنیا بھر میں اسمارٹ فونز کی اوسط فروختی قیمت تقریباً 20 فیصد بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہے۔
او ایم ڈی آئی اے کے اسمارٹ فون مارکیٹ تجزیہ کار چیو لی شوان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایپل کے نئے فونز کی قیمت آئی فون 17 کے مقابلے میں 150 ڈالر تک زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ کمپنی اے آئی سے متعلق نئی خصوصیات کے لیے ہارڈویئر میں بہتری متوقع طور پر شامل کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ "زیادہ تر اسمارٹ فون برانڈز پہلے ہی قیمتیں بڑھا چکے ہیں، پروموشنز کم کر چکے ہیں یا منافع برقرار رکھنے کے لیے بعض خصوصیات میں کمی کر چکے ہیں۔"
ان کے مطابق"یہ قیمتوں میں عارضی اضافہ نہیں بلکہ ایک نئی معاشی حقیقت ہے۔"
گزشتہ ستمبر میں لانچ ہونے والی آئی فون 17 سیریز کافی مقبول رہی ہے۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں ایپل کی مصنوعات کی فروخت گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 17 فیصد بڑھی، جس میں چین کی مضبوط طلب نے اہم کردار ادا کیا۔
اس سال کے آغاز میں ایپل نے اپنے میک منی (Mac Mini) کمپیوٹرز کا انٹری لیول ماڈل ختم کر دیا، جس کے نتیجے میں اس کی ابتدائی قیمت تقریباً 200 ڈالر (150 پاؤنڈ) بڑھ گئی۔