آٹو پین سے دستخط ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن کے جاریکردہ معافی نامے منسوخ کردئیے

White House claims Biden pardons are 'void' alleging use of autopen
کیپشن: White House claims Biden pardons are 'void' alleging use of autopen
سورس: google

ویب ڈیسک :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر جوبائیڈن کی طرف سے جاری کردہ تمام پیشگی معافی نامے خود کار پین سے دستخط کئے جانے کی وجہ سےمنسوخ کردئیے یہ معافی نامے ڈونلڈ ٹرمپ کے ناقدین کو انکے خلاف کارروائی سے بچانے کے لئے جاری کئے گئے تھے۔

 رپورٹ کے مطابق صدرٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ معافیاں غیر مؤثر ہیں کیوں کہ ان پر بائیڈن نے خود دستخط نہیں کیے بلکہ خود کار قلم کا استعمال کیا گیا۔

یہ واضح نہیں کہ آیا ٹرمپ کے پاس اپنے پیشرو کے جاری کردہ صدارتی معافی نامے منسوخ کرنے کا کوئی قانونی اختیار ہے یا نہیں۔

امریکہ کی تاریخ میں معافی ناموں کی منسوخی انتہائی کم ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے ظاہر ہو گا کہ ٹرمپ ایک بار پھر صدارتی اختیارات کی اخری حد تک جا رہے ہیں، خاص طور پر اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ بائیڈن کے دستخط ’آٹو پین‘ کے ذریعے کیے گئے جو عام طور پر استعمال ہونے والا خودکار آلہ ہے اور اس بنیاد پر وہ معافیاں درست نہیں۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ ’یہ معافی نامے اب منسوخ، کالعدم اور غیرمؤثر قرار دیے جاتے ہیں کیوں کہ یہ آٹو پین کے ذریعے جاری کیے گئے۔‘

یادرہےامریکی صدور طویل عرصے سے آٹو پین استعمال کرتے آئے ہیں، حتیٰ کہ کسی بل کو قانون بنانے کے لیے بھی یہی قلم استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم ٹرمپ اور ان کے حامی، خصوصاً دائیں بازو کی پالیسی دستاویز ’پروجیکٹ 2025‘ سے وابستہ افراد اس معاملے کو جو بائیڈن کی صدارت کو غیر قانونی ثابت کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدر بائیڈن نے کس کس کو معافی دی؟

بائیڈن نے سابق سینیئر رپبلکن قانون ساز لِز چینی اور دیگر ارکان کو معافی دی، جو اس کانگریسی کمیٹی کا حصہ تھے جس نے چھ  جنوری 2021 کو کیپیٹل ہل پر ٹرمپ کے حامیوں کے حملے اور 2020 کے انتخابی نتائج الٹنے کی ٹرمپ کی متعدد کوششوں کی تحقیقات کی۔

بائیڈن نے پیشگی معافی نامے بھی جاری کیے۔ یہ معافی پانے والوں میں کووڈ وبا کے معاملے میں سابق مشیر اینٹنی فاؤچی، ریٹائرڈ جنرل مارک ملی اورشاید سب سے زیادہ متنازع طور پر، بائیڈن کے خاندان کے قریبی افراد، ہنٹر بائیڈن، جیمز بائیڈن،سارہ جونز بائیڈن،ویلری بائیڈن اوونس ،جان ٹی اوونس،فرانسس ڈبلیو بائیڈن بھی شامل ہیں۔

یہ تمام افراد آنے والے رپبلکن صدر کے کھلے عام سیاسی اہداف بن چکے تھے۔

مدت صدارت کے اختتام پر بائیڈن کی جانب سے جاری کردہ معافی نامے دراصل ایک جامع تحفظ ہیں تاکہ ان قانون سازوں کو ٹرمپ کی بار بار کی گئی دھمکیوں سے محفوظ رکھا جا سکے، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ 2024 کا الیکشن جیت گئے تو ان سے بدلہ لیں گے۔

معافی نامے جاری کرنیکی ضرورت کیوں پیش آئی؟

ٹرمپ نے اپنے سیاسی مخالفین سے ’انتقام‘ لینے کا بارہا وعدہ کیا ہے اور بعض کو فوجداری مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکی بھی دی۔

بائیڈن نے اس وقت کہا تھا کہ ’میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ میں کچھ نہ کروں۔‘

جنوری میں عہدہ سنبھالتے ہی، ٹرمپ نے فوری طور پر اپنے حامیوں کے حق میں متعدد معافی نامے جاری کیے، جن میں تقریباً 1500 وہ افراد بھی شامل تھے جو چھ جنوری 2021 کو کیپیٹل ہل پر حملہ کرنے اور بائیڈن کی انتخابی جیت کی توثیق روکنے کے جرم میں سزا یافتہ تھے۔

Watch Live Public News