دہشتگرد نیٹ ورک میں لڑکیوں کا جنسی استحصال، ڈاکٹر صبیحہ کا نام سامنے آگیا

دہشتگرد نیٹ ورک میں لڑکیوں کا جنسی استحصال، ڈاکٹر صبیحہ کا نام سامنے آگیا

(ویب ڈیسک) سکیورٹی اداروں کی بڑی کامیابی،خاتون خودکش بمبار گرفتار، بڑی تباہی سے بچا لیا۔

لڑکی نے بیان میں کہا کہ  مجھے بہکا کر اور استحصال کر کے استعمال کیا گیا۔ ڈاکٹر صبیحہ پر نوجوان لڑکیوں  نے manipulation کے الزامات عائد کیے۔

 کمزور حالات کا فائدہ، لڑکی کو استحصال کے بعد شدت پسندی کی طرف دھکیلا گیا، ذہنی دباؤ کے ساتھ ذاتی استحصال بھی کیا گیا۔

 لڑکیوں کو trap کرنے کے لیے نفسیاتی اور ذاتی استحصال کا استعمال کیا گیا۔

لڑکی نے اعترافی بیان میں کہا کہ میرا نام لائیبہ ہے مجھے گھر میں اور گاؤں میں لوگ فرزانہ کے نام سے جانتے ہیں ۔ گزشتہ سال میرا رابطہ جولائی  کے  مہینے میں   ٹی ٹی پی کے  کمانڈر ابراہیم عرف قاضی سے ہوا۔کمانڈر ابراہیم نے مجھے خودکش حملہ کرنے کے لیے ذہن سازی کی ۔

لائیبہ نے کہا کہ کمانڈر ابراہیم کی تنظیمی باتوں سے میں متاثر ہو گئی اور خودکش حملے کے لیے تیار ہو گئی ۔کمانڈر ابراہیم نے میرا رابطہ دل جان سے کروایا ، جس نے مجھے بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ سے ملوانا تھا،مجھے  ٹارگیٹ دیا گیا کہ میں مزید لڑکیوں کو اس کام کے لیے تیار کروں ۔

لڑکی نے بیان میں کہا کہ کمانڈر دل جان نے  مجھ سے ملاقات کرنی تھی ، اور مجھے اپنے ساتھ کیمپ لے کر جانا تھا۔مجھے خودکش حملے کے لیے جانا تھا لیکن مجھے خضدار پہچنے پر مجھے گرفتار لر لیا گیا۔میری ذہن سازی کر کے مجھے استعما ل کرنے کی کوشش کی گئی۔

Watch Live Public News