ویب ڈیسک: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے متعارف کرائی گئی ’’سندھ ڈیفائنڈ کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم‘‘ (SDCPS) کو ختم کرتے ہوئے نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے دوبارہ پرانا پنشن سسٹم بحال کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ستمبر 2024 میں سندھ کابینہ نے نئے صوبائی ملازمین کے لیے ایس ڈی سی پی ایس کی منظوری دی تھی جس کے تحت روایتی پنشن اور گریجویٹی ختم کر کے کنٹری بیوشن پنشن نظام نافذ کیا جانا تھا۔ اس اسکیم میں ہر سرکاری ملازم اپنی بنیادی تنخواہ کا 10 فیصد جمع کراتا جبکہ حکومت کی جانب سے 12 فیصد حصہ شامل کیا جاتا۔ یکم نومبر 2024 کو اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں سندھ سول سرونٹ ایکٹ 1973 میں ترمیم کی منظوری دی گئی تھی، تاکہ نئے بھرتی ہونے والے ملازمین اس کنٹری بیوٹری پنشن نظام کے تحت لائے جا سکیں۔ تاہم، اسکیم کے نفاذ کے ایک سال بعد ہی حکومت نے فیصلہ واپس لے لیا۔
17 ستمبر 2025 کو سیکریٹری فنانس کی جانب سے جاری کیے گئے نئے آفس میمورینڈم میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم نومبر 2024 کو جاری نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا گیا ہے، یوں اب ایس ڈی سی پی ایس کو باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد نئے ملازمین کو بھی دوبارہ پرانی پنشن اور گریجویٹی کی سہولت حاصل ہوگی۔
ذرائع کے مطابق حکومت کو ملازمین اور متعلقہ یونینز کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا تھا جنہوں نے اس اسکیم کو ملازمین کے حقوق کے منافی قرار دیا تھا۔